ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 95
عالم سے کرتے ہیں۔پیارے! دیکھ اس دعوے میں ہم کس قدر سچے ہیں ؟رات کو سو رہے چار پہر تین پہر سوتے رہے۔صبح کو اٹھے پاخانے گئے۔وہاں سے آئے باتیں کیں پھر کھانے کی فکر میں لگے۔روٹی کھائی پھر کچہری میں دنیا کمانے کو گئے پھر جو جو کام وہاں ہم کرتے ہیں اس کو ہم ہی خوب جانتے ہیں۔پھر آئے ہوا خواری، کوچہ گردی، سیر بازار گھر آئے۔بال بچہ میں لگ گئے۔لیاقت و استعداد پر الف لیلہ، فسانہ آزاد ،کفار سیان وغیرہ وغیرہ وغیرہ پڑھنے بیٹھ گئے۔بتاؤ یہی کا مطلب ہے۔پھر اگر کوئی بہت بڑا نیک ہوا تو پنجگانہ نماز بھی دربان میں پڑھ لی پھر اس میں اَیَا سَمِعْتُـہٗ سستی، کاہلی، تاخیر وقت، نقصان سجود رکوع، قومہ، جلسہ وقراء ت ہوتا ہے۔جو منصف ہے اسے خوب جانتا ہے۔بھلا پیارے! یہی معنی کے ہو ںگے؟ نہیں نہیں۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کو ہر ایک کام میں اور بات میں رضا مندی جناب باری تعالیٰ کی رکھنی چاہیے۔نوکری کریں مگر اس نیت پر کہ روپیہ حاصل کر کے صلہ رحمی کریں گے۔ماں کو، بہن کو، بھائی، بھانجا، بھتیجا وغیرہ کو دیں گے۔صلہ رحمی سے ربّ تعالیٰ راضی ہوگا۔جہاں تک ہو سکا لوگوں کی بہتری میں کوشش کریں گے۔سو تے ہیں مگر اس نیت سے کہ خواب سے طاقت کمانے کی حاصل ہو گی۔بدن کو صحت میں عبادت پر لگائیں گے۔وہ روزی جس سے صلہ رحمی ہو اور آپ سوال، چوری، فریب،دغا، قمار وغیرہ وغیرہ سے آدمی بچے۔کمانے کی طاقت اسے نیند سے حاصل ہو تی ہے اس واسطے سوتے ہیں۔لوگوںسے باتیں کرتے ہیں اس خیال سے کہ باہم محبت بڑھے اتفاق پیدا ہو جو خدا وند کریم کا حکم ہے۔اسی طرح ہر ایک کام میں رضامندی مولا مقصود ہو اور وہی مد نظر رہے تو کے معنی صحیح ہم پر صادق آویں اور دعویٰ درست ہو۔اب چلو اس کے معنی ہیں تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں یہ بھی دعویٰ ہے سچا تب ہو جب ہر کام میں ہم کو یہی خیال رہے اور اس کا انجام اوراِ تمام بدون رضامندی حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ اور اس کی عنایت کے نہیں ہو سکتا۔اے خدا! تو ہی ممد اور معاون رہ۔دیکھو! کبھی زمیندار کاشتکار ی کرتا ہے۔خرمن بناتا ہے۔امیدوار ہے کہ دانہ گھر لے جاؤں۔