ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 94
پاس حکیم الامت کے خطوط ہیں وہ خواہ کیسے ہی ہوں براہ کرم عام فائدہ کی خاطر ہمیں سردست اصل بھیج دیں بعد نقل وہ اصل ان کو بھیج دی جاوے گی۔(ایڈیٹرالحکم) مکتوب ارشد ارجمند حفظک اللّٰہ وسلّم میں تم سے ملا۔پر کیا ملا! بات کرنے کا موقع بھی نہ ملا۔دل کی باتیں دل میں رہیں۔جدا ہوا تو کیسا جدا ہوا ! شیخ صاحب سے اسٹیشن پر صرف السلام علیکم ہوئی۔ریل میں ایک پادری صاحب سے بحث تھی۔کچھ ادھر کا خیال کچھ ریل کے چلے جانے کا۔وزیر آباد پہنچ کر خود سخت بیمار ہو گیا۔بخار، درد سر، گھبراؤ دامن گیر ہوا۔رات کو سیالکوٹ پہنچا۔وہی بے آرامی۔بدقت جمّوں پہنچا۔کل سے ذرہ آرام ہے۔میاں احمد یار صاحب بیمار تھے ان کی بھی آپ نے خبرنہ دی۔اللہ رکھے کی اصلاح کا حال نہ لکھا۔آپ نے دعا گو کی خبر بھی نہ لی کہ اس نے جمّوں پہنچ کر خط نہیں لکھا خیر ہو۔خدا وند کریم کا رحم ہو۔غرض یہ سب شکایت محبانہ ہے اور مجھ پر شکایت نہیں کیونکہ اول بیمار پھرمہجور، دور پھر غریب الوطن وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔شیخ فضل الٰہی صاحب بھی بخار میں تھے۔شافی نے شفا بخشی ہو۔جناب موصوف کو میرا بہت بہت السلام علیکم کہنا اور میری طرف سے عیادت کرنی تاکید ہے۔گردہاری چوپڑے کا حال دریافت کر کے لکھنا اور اس کے بھائی اور والد کا۔حافظ غلام محی الدین سنا ہے راولپنڈی سے واپس آکر بیمار ہو گئے ان کا حال بھی ارقام فرمانا۔شہر میں بیماری کی کیا حالت ہے؟ میرا بھانجا بیمار تھا اس کی بھی خبر نہیں۔حافظ غلام محمد صاحب کیسے ہیں؟ ان کا بچہ کیسا ہے؟ پیارے عزیز! سنو سنو سنو کان رکھو۔نماز میں ہر روز محبوب حقیقی جامع جمیع کمالات رحمن رحیم حضرت ربّ العالمین، مالک یوم الدین کی تعریف کر کے آپ پڑھا کرتے ہو (الفاتحۃ: ۵،۶) ُ کے معنی ہیں تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور کریں گے۔یہ دعویٰ سب مسلمان را ت دن کئی بار خدا وند