ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 81
اعمال صالحہ اپنی ہی تجویز اور خیال پر اعمال صالحہ نہیں ہوسکتے جن میں اخلاص ہو اور صواب ہو کیا معنے خدا ہی کے لئے ہوں اور خدا ہی میں ہو کر ہوں یعنی اللہ تعالیٰ کے فرمودہ اور نبی کریم ﷺ کے عمل کے موافق ہوں۔پس حَاسِبُوْا قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْا اس سے پہلے اپنا حساب کرلو جبکہ تمہارا حساب کیا جاوے اور وَازِنُوْا قَبْلَ اَنْ تُوَازَنُوْا اس سے پیشتر کہ تم تولے جاؤ خود اپنے آپ کو تولو۔ہر روز سستی اور گناہوں کے دور کرنے کی کوشش کرو۔باریک در باریک اعمال پر خوب غور کرو۔میں سچ کہتا ہوں وہ شخص بڑے ہی گھاٹے میں ہے جس کے دو دن برابر گزرے۔تین زبانیں سیکھنے کی تاکید ساری خوبیاں، آرام اور سکھ انسان کو حاصل ہوجاتے ہیں جبکہ وہ خدا کا بن جاتا ہے بڑے بدبخت ہیں وہ لوگ جو قرآن شریف سے لذت نہیں اٹھاتے۔یاد رکھو انسان کو تین زبانیں ضرور سیکھنی چاہئیں۔اوّل مذہب کی زبان ، دوم بادشاہ کی زبان ، سوم ملک کی زبان۔اور اب موجودہ حالت میں گویا عربی، انگریزی، اردو یہ زبانیں اعلیٰ درجہ کی حاصل کرو۔قرآن کی زبان شرافت ، عزت بڑھانے کا موجب ہے۔عرب پہلے کیاتھے؟ کچھ بھی نہ تھے قرآن کے بعد تمام دنیا کے فاتح اور امام کہلائے۔اب عرب نے قرآن چھوڑدیا دیکھو بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔قرآن شریف انسان کو شریف اور تاریخی انسان بنادیتا ہے پس اگر شریف اور تاریخی انسان بننا چاہتے ہو تو قرآن کو پکڑو۔دکھ اور تکلیف پہنچنے سے ملنے والی خوشیاں حضرت عمر ؓ نے فرمایا ہے کہ جب مجھے کوئی دکھ آتا ہے تو مجھے تین خوشیاں ہوتی ہیں اول بڑے دکھ سے بچنا۔دوم گناہوں کا کفارہ۔سوم دنیا کی مصیبت ہے نہ دین کی۔مگر جب مجھے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو مجھے ایک چوتھی راحت بھی ہوتی ہے۔اور وہ یہ کہ دعاؤں کا موقع ملتا ہے اور یہ ایمان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تکلیف کے بعد بہترین راحت دے گا۔