ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 80
ظاہری مرشد ہو یا باطنی۔باطنی مرشد الہام ہے اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ۔اجماع امت جس کو خوب غور سمجھ سے حاصل کیا ہو۔پھر صفحہ ۲۹ میں لکھا ہے کہ یا اللہ تعالیٰ سالک کو ان سب باتوں سے بے پروا کردیتا ہے اور محض اپنے فضل سے اپنے جذب سے بغیر مشقت کے واصل بنادیتا ہے۔والسلام نورالدین از قادیان (الحکم جلد ۴ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۶ ؍ستمبر ۱۹۰۰ ء صفحہ ۷،۸) بکریاں چَرانے میں سِر الٰہی رسول اللہ ﷺ کی بکریاں چرانے پر بعض نادان اعتراض کرتے ہیں وہ اس سر الٰہی سے ناواقف ہیں جو بکریاں چرانے میں رکھا گیا ہے یاد رکھو بکریاں چرانے والا بڑا محتاط اور ہوشیار ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ ذرا سی غفلت بھی کرے تو اس کی بکریوں کو درندوں سے نقصان پہنچے۔پھر بکریاں چرانے والے کو درندوں کے مقابلہ کے واسطے ایک بڑا لٹھ ہاتھ میں رکھنا ضروری ہے اسی لٹھ کے ساتھ وہ درندوں کا مقابلہ کرتا ہے اور اسی کے ساتھ بکریوں کو مارتا ہے مگر وہ دونوں حالتوں میں ایک صریح امتیاز رکھتا ہے۔اس طرح پر اس کو حلم اور غضب کوفی محلہ خرچ کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔قوم کا واعظ مومن جب اپنے گھر میں یا کنبے میں کوئی غلطی دیکھے۔وہ بلا خوف لومۃ لائم ان کو ڈراوے۔ہر ایک قوم کا واعظ اپنی قوم کے لئے ٹھیک ہوسکتا ہے۔اپنے دوست احباب، گھر والوں اور جن کے حالات سے تم خوب واقف ہواور اپنے تمام رشتہ داروں کو ان کی غلطیوں سے آگاہ کرو اور ان کو امر بالمعروف کرو اور نہی عن المنکر۔یہ اللہ تعالیٰ کا منشا ہے اور یہی طریق ہے حضرت ابوالملۃ ابراہیم علیہ السلام کا۔اس سے ایمان قوی ہوتا ہے اور شجاعت پیدا ہوتی ہے۔اعمال صالحہ اپنے اعمال کو سیدھا کرو۔یادرکھو کہ کوئی تمہارا علم، آبرو، دولت، طاقت کام نہ آوے گی۔مگر کام آنے والی ایک اور صرف ایک ہی چیز ہے جس کو اعمال صالحہ کہتے ہیں۔