ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 82
روحانی بیماریوں کے علاج کا طریق قرآن شریف میں دو قسم کے گروہوں کا ذکر ہوا ہے فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ اور فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ۔پس قرآن پڑھو تو یہ ضرور سوچو کہ تم کس فریق میں ہو۔آدم ہو یا ابلیس، نوح ہو یا قوم نوح، عادی ہو یا ہود، ثمودی ہو یا صالح، موسیٰ ہو یا فرعون، محمد ﷺ ہو یا ابوجہل اور مشرکان مکہ۔یہ ایک طریق ہے اپنی روحانی بیماریوں کے علاج کا اور میں نے اس طرز پر اپنا علاج کر کے فائدہ اٹھایا ہے۔قرآن شریف پڑھو مگر دستور العمل بنانے کے لئے۔کامل مومن ہونے کے لئے تین امتحان مومن وہ ہوتا ہے جو اپنی جان کو ظلم …اور رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْکہہ اٹھے۔یاد رکھو جب تک تین قسم کے امتحان میں پاس نہ ہووے مومن کامل نہیں ہوسکتے۔اوّل آدمی کے اندر کچھ نہ کچھ بیماریاں ضرور ہوتی ہیں۔ازانجملہ ظلمت العادات بہت بڑی تاریکی ہے کوئی نہ کوئی بُرائی یا عیب جو انسان میں ہوتا ہے جب اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو پہلے اس کے تکالیف اور ظلم ضرور سہنے پڑتے ہیں۔پھر اقتصاد کی حالت ہوتی کسی وقت نیکی کا خیال کرتا ہے اور بدی کا خیال بھی کر بیٹھتا ہے۔اس کے بعد آخری حالت فَاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ کی ہوتی ہے جس میں گناہوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔پس اپنی بدعادتوں کو چھوڑو۔ہر قسم کی ظلمت سے نکلنے کے لئے مجاہدہ کرو اور استغفار پڑھو تا کہ گناہوں سے محفوظ ہوجاؤ۔(الحکم جلد ۴ نمبر۳۴ مورخہ ۲۴ ؍ستمبر ۱۹۰۰ ء صفحہ ۵،۶) شراب اور اُس کی حرمت کی تین وجوہ رسول اللہ ﷺ کے سوا دنیا پر کسی نے یہ احسان نہیں کیا کہ شراب کو جو جما ع الاثم یعنی ساری بدیوں کی جامع ہے حرام فرمایا۔ہر بد اخلاقی شراب سے پیدا ہوتی ہے۔بعض لوگوں نے اس بات پر سوال کیا ہے کہ قرآن شریف سے صراحتاً شراب کی حرمت کہاں سے ثابت ہے؟ میرے نزدیک تین زبردست وجوہ حرمت شراب کے ہیں۔