ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 79 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 79

وظائف و اوراد کے اندر ختم کر بیٹھے ہیں اور ان کی بیعت کے بدوں اور کوئی طریق ختم سلوک کا نہیں ہے۔یہ سوال عام ہے اور حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب سے اس کا جواب ہمارے ایک دوست نے عرصہ ہوا طلب کیا تھا عام فائدہ کے لئے ہم اس کو یہاں درج کرتے ہیں جس میں بتلایا گیا ہے کہ کس قدر بزرگ دنیا میں گزرے ہیں جو ان چار خاندانوں میں یا کسی اور سلسلہ میں بیعت نہیں تھے اور انہوں نے کمال حاصل کیا اور وہ عارف باللہ ہوئے اور تمام وکمال سلوک کی راہوں کو طے کیا۔وہ خط یہ ہے۔(ایڈیٹر) السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ جن لوگوں نے ظاہری بیعت کسی سے نہیں کی وہ ہزاروں ہیں۔ان میں سرتاج اولیاء حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت سیدنا و مولانا محمد رسول اللہ ﷺ۔عام اولیاء میں (۱) حضرت اویس قرنی سید التابعین اور رئیس اولیاء معاصرین ہیں۔(۲) عامر بن عبداللہ بن تیمی۔جن کا حال طبقات کبریٰ امام شعرانی میں بصفحہ نمبر ۲۷ مندرج ہے۔(۳) مسروق بن عبدالرحیم (۴) علقمہ بن قیس ان سب کا حال طبقات میں ہے۔بلکہ امام ابو حنیفہ امام احمد حنبل امام بخاری امام شافعی بھی ایسے ہی ہیں۔جامع اصول الاولیاء مطبوعہ مصر صفحہ ۷ سطر ۳ و ۴ میں لکھا ہے کہ الشیخ السید عبدالقادر الجیلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اب میں نبوۃ اور فتوۃ کے دریاؤں سے پانی پیتا ہوں کیا معنی کہ سیدنا و مولانا محمد ﷺ مرتضیٰ سے فیض ملتا ہے۔اور امام ابوالحسن الشاذلی صاحب حزب البحر نے فرمایا ہے میں دس سمندروں سے پانی پیتا ہوں ان میں سے پانچ سمند ر آسمانی ہیں اور پانچ زمینی ہیں۔آسمانی پانچ یہ ہیں۔جبرئیل، میکائیل، اسرافیل، عزرائیل، روح۔زمینی پانچ یہ ہیں۔ابوبکر ، عمر، عثمان ، علی اور محمد رسول اللہ ﷺ اور پھر بصفحہ نمبر ۲۴ جامع اصول الاولیاء مطبوعہ مصر سطر نمبر ۲۷ میں ہے۔سالک کے لئے ضرور ہے کہ اس کا کوئی مرشد ہو