ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 77 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 77

نفس کچھ چاہتا ہے دوستی اور دیگر تعلقات کچھ چاہتے ہیں۔پس ایسے مقامات پر اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔( الحکم جلد ۴ نمبر ۳۱ مورخہ ۳۱؍اگست ۱۹۰۰ء صفحہ ۴،۵) مسلمانوں کے کسل کے اسباب لوگوں نے مسلمانوں کے کسل کے اسباب پر بڑی بڑی بحثیں کی ہیں میں نے بھی اپنی جگہ اس مضمون پر بہت غور کی ہے اور بڑے غور وفکر کے بعد جو اسباب مسلمانوں کی سستی کے مجھے معلوم ہوئے ہیں وہ یہ ہیں۔اوّل:۔علماء اور مشائخ جو گویا دینی امام اور رہبر تھے اعمال میں سست ہیں اور وہ قرآنی احکام کے موافق نمونہ نہیں ان کے بدنمونہ کا برا اثر قوم پر پڑا۔دوم:۔دوسرے درجہ پر جن لوگوں کا اثر قوم پر پڑتا ہے وہ امراء ہیں ان کی حالت بجائے خود ناگفتہ بہ ہے۔وہ یورپ کے فیشن کے دلدادہ اور مغربی نمائشی تہذیب کے گرویدہ ہیں ان کی عملی ، اخلاقی ، مجلسی حالت کا اثر جو مسلمانوں پر پڑا اس نے بھی قوم کو نقصان پہنچایا۔سوم:۔عام اختلاف جو مسلمانوں میں پڑرہا ہے اس نے لوگوں کو حیران اور بالکل نکما کردیا ہے۔امر حق پہنچنے کے لئے مشکلات کا سامنا ہے۔چہارم:۔ہر شخص کے دماغ میں یہ بات سما گئی ہے کہ جو کچھ اس نے سمجھا اور سوچا ہے وہی کافی ہے اس کی تحقیقات کے سامنے کسی دوسرے کی تحقیقات ہیچ اور ناقص ہے اس خیال نے قومی ترقی کی راہ میں جو استفادہ اور استفاضہ سے ہو سکتی ہے ایک بڑی روک پیدا کردی ہے۔پنجم:۔ان ساری آفتوں پر ایک یہ بڑی آفت پیدا ہوئی ہے کہ مذہب کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ششم:۔اگر کوئی ضرورت مذہب کی سمجھی بھی جاتی ہے تو عوام کے لئے اور پھر مذہب کو چند مصالح قومی کا نام دیا جاتا ہے۔ہفتم:۔مذہب پر یقین تام ہی نہیں۔