ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 5
بھی وہی ہو اگر جھوٹوں کی یہی علامات ہوا کرتی ہیں تو ہمارے جان و مال ایسے جھوٹوں پر قربان اور اُن نالائق سچوں کو ہم دور سے سلام کریں گے۔ہم یہ عریضہ بھیج کر ایک ماہ تک انتظار کئے جائیں گے اگر کوئی جواب نہ آیا تو یقینا ہم سمجھ لیں گے کہ آپ لوگ اسلام کے ہمدرد نہیں۔بالآخر آپ کو اللہ جَلَّ شَانُہٗ کی قسم دی جاتی ہے کہ اگر آپ سچے ہیں تو اس وقت خاموش نہ رہیں۔اندرونی اور بیرونی طور پر فساد حد سے بڑھ گیا ہے اگر آپ سے کچھ نہیں ہو سکتا تو اسی قدر لکھ دو کہ اگر مرزا غلام احمد صاحب اس میدان میں کام دے سکتے ہیں تو تم انہیں کو مجدد وقت مان لو اور آپ یہ بھی لکھ دیں کہ ایسے ثبوت ملنے کے بعد ہم بھی ان کو مان لیں گے۔اور اگر آپ کا کچھ جواب نہ آیا تو صریح آپ کی کجی ثابت ہو گی اور قیامت کو ہمارا ہاتھ اور تمہارا دامن ہو گا۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی دادخواھان نورالدین بھیروی، مرزا خدابخش جھنگ ، فضل الدین بھیروی وعبدالکریم سیالکوٹی و برادران۔(جواب بمقام بھیرہ ) ضلع شاہپور (مطبوعہ ریاض ہند ماخذ خلافت لائبریری ربوہ) مکتوب کا پس منظر ۱۸؍نومبر۱۸۹۷ء کو اتفاقی طور پر حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی تشریف فرما امرتسر ہوئے اور اپنی عادت مستمرہ کے موافق جسمانی اور روحانی معالجات سے لوگوں کو نفع پہنچاتے رہے۔اس دو دن کے مختصر قیام میں انجمن فرقانیہ امرتسر ( یعنی جماعت حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ) نے حسب اجازت مولانا صاحب ممدوح ۱۹؍نومبر ۱۸۹۹ء بعد نماز جمعہ آپ کے وعظ کا اشتہار چھاپ کر تقسیم کر دیا۔اس جلسہ کا انتظام جناب شیخ فیروز الدین صاحب میونسپل کمشنر کے مکان میں ہوا۔کوئی تین بجے