ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 6 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 6

کے قریب لوگ آنے شروع ہوئے ابھی لوگ اچھی طرح نہ آئے تھے کہ ایک شخص میاں محمد دین صاحب معہ ایک دو آدمیوں کے ایک رقعہ (مرقومہ میاں ثناء اللہ ) لے کر آموجود ہوئے۔رقعہ کی ظاہری حالت اپنے بھیجنے والے کی شکستہ دلی اور اندرو نی حالت کا چربہ اتارے دیتی تھی۔جناب مولانا صاحب نے رقعہ پڑھ کر عوام حاضرین کو سنایا اور پھینک دیا اور فرما یا کہ ’’ ان کو کس نے کہاہے کہ تم ہمارا وعظ آ کر سنو۔اب یہ جھگڑے ایک آدمی کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں یا اُس کے فیصلہ کرنے پر فیصل ہو جائیں گے۔جائو تم بھی کتابیں لکھ کر پھیلائو پبلک خود فیصلہ کر لے گی۔‘‘ جب محمد دین صاحب زیادہ زور مباحثہ پر دینے لگے تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ ’’ میں بوڑھا ہو گیا مجھے زیادہ تجربہ ہے یہ بحثیں ایک گھنٹہ میں ختم نہیں ہو اکرتیں۔‘‘ الغرض مولانا صاحب نے مندرجہ ذیل جواب لکھ کر حوالے کیا۔زاں بعد یہ لوگ چلے گئے اور جناب مولانا صاحب نے احمد اور محمد آنحضرت ﷺ کے مبارک ناموں کی فلاسفی بیان کرتے ہوئے ضمناً بہت سے معارف اور نکات کا دریا بہا کر آخر میں روحانی خلافت کے سلسلہ پر پُر زور تقریر کر کے وعظ ختم کر دیا۔(تلخیص ازایڈیٹر نوٹ ) مکتوب بسم اللّٰہ الرحمٰن الرَّحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم واٰلہ التسلیم ا ما بعد فالسلام علیکم۔خاکسار عرض پرداز ہے کہ امور متنازعہ فیہا مابین ہمارے اور ہمارے مخالفین کے اتنے طویل الذیل ہو گئے ہیں جن کا تصفیہ ایک گھنٹہ کا کام نہیں رہا اور خاکسار کو شام تک واپس جانا ہے۔علاوہ بریں ہمارے خیالات مخفی نہیں رہے۔جس طرح ہم نے تحریراً خیالات شائع کئے ہیں آپ ان کی تردید تحریراً شائع فرما دیں۔یہ جھگڑا ایک شہر کا نہیں اور نہ دو تین آدمیوں میں کہ ان کے روبرو طے ہونے سے طے