ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 4 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 4

ہوش باختہ ہو رہے ہیں ہم اسلام کی یہ حالت دیکھ نہیں سکتے چلو یہ شخص کافر ہی سہی آپ مسلمان بنیںمسلمانوں کی برکات کافروں کو دکھلا دیں تا یہ ڈوبتی ہوئی کشتی تھم جائے ہمارے سید ہمارے ہادی کی آخری وصیت یہی وصیت تھی کہ قرآن کو ہاتھ سے مت چھوڑنا وہی معجزہ کا کام دے گا وہی تم میں قبولیت پیدا کرے گا سو آئو ایک آسان فیصلہ ہے اس وقت امت محمد ﷺ پر احسان کرو اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ایک سورۃ مثلاً سورۃ یٰسین اور مقطعات قرآنیہ کی ایک تفسیر لکھو مگر ایسی کہ جس میں وہ حقائق اور معارف قرآن کے مندرج ہوں کہ معجزہ کی حد تک پہنچ جائیں اس پر اگر اس معجزہ کو تعصب سے مخالف قبول نہ کریں گے تو ہماری قوم کے نو تعلیم یافتہ تو اپنے پیارے دین کی پاک صداقتیں دیکھ کر شُبہات سے رُک جائیں گے اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اگر ایسی کتاب جو درحقیقت قرآن کریم کے اعجاز کو ثابت کرتی ہو آپ تالیف کر کے شائع کریں تو پھر جو صاحب آپ لوگوں میں سے یہ خدمت بڑھ کر انجام دے دے تو وہی ہمارا امام اور وہی مجدد وقت تسلیم کیا جائے گا اور اس مبارک کام سے اندرونی فساد بھی دور ہو جائیں گے اور ایک شخص جو کذاب سمجھا گیا ہے وہ ایسا رد ہو جائے گا جیسے کوئی بوسیدہ کاغذ کو پھاڑ دے اور اگر یہ نہیں تو ہم ا س پر بھی راضی ہیں کہ آپ صاحبوں میں سے کوئی بزرگ مر دمیدان بن کر کوئی ایسی پیشگوئی شائع کریں جس کی قبولیت دعا پر بنا ہو اور نیز خارق عادت کی حد تک پہنچ گئی ہو اور یہ شخص جو مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کی خدمت میں بھی ہم نے یہی تحریر لکھ دی ہے کہ جس وقت اِن بزرگوں میں سے کوئی صاحب سورہ یاسین اور مقطعات کی اعجازی تفسیر بنانے کا وعدہ کریں یا خارق عادت استجابت دعا کے مدعی ہوں جو کسی پیشگوئی پر مبنی ہو تو اس کا تم بھی مقابلہ کرو اگر مقابلہ نہ کر سکو تو ہمارے لئے تمہارے کاذب ہونے پر یہی دلیل کافی ہے ہم جانتے ہیں کہ اس وقت اسی شخص کو خدا تعالیٰ مدد دے گا جو درحقیقت سچا ہی ہو گا بھلا یہ کیونکر ہو سکے کہ سچے تو عاجز رہ جائیں اور یہ سب توفیقیں کسی جھوٹے کو دی جائیں کہ کثرت سے دعائیں بھی اُسی کی قبول ہوں اور غیب کے امور بھی اُسی پر ظاہر ہوں اور قرآن کریم کے عجائبات بھی اسی پر کھلیں اور اسلام کا ہمدرد بہادر اور جان فشاں