ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 38 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 38

اس پر آشوب زمانہ میں جس میں لوگ مادر پدر آزاد ہو رہے۔ایک عظیم الشان کثیر التعداد سپاہ کا سپہ سالار ہے۔۹۔علم و عمل کا کوئی تجربہ کر کے دیکھے بایں امراض کیسے نکات اور کس قدر تصنیف کر سکتا ہے قابل غور ہے۔۱۰۔ممتاز قوم کا تیار کرنا اس کی ممتاز جماعت سے ظاہر ہے۔آریہ ، برہمو ، سناتن ، سکھ، پادری، یہودی صفت ملاّں، سجادہ نشین ، عوام، خواص اس کی دشمنی میں کیسی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔مقدمات کئے، فتوے لگائے ، جھوٹے اتہامات کے لئے ایمان فروشی کی مگر (المومن : ۵۲) کا سچا وعدہ کیسے زور سے جلوہ گر رہا۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَ بِّ الْعَالَمِیْنَ۔مولوی لوگوں ، فلسفہ ، دہریہ وغیرہ وغیرہ کا مباحثہ تو ذرہ بھی مشکل نہیں بالکل سہل ہے اور ان کا ضرر بھی کوئی معتدبہ ضرر نہیں کیونکہ اس کے باعث جناب الٰہی کی شان میں واقعی کوئی بٹّہ نہیں لگ سکتا۔اِلاَّ سردست آپ کی جماعت کچھ ایسا فکر کر رہی ہے کہ اسلام کے نازک سر پر ایک پہاڑ گرا دے اور اس کا سر پھوڑ کر چو ر کر دے اگرچہ انشاء اللہ اسلام کا حافظ و ناصر السلام نام ذات ہے۔بُرا ماننے کی بات نہیں۔حافظ صاحب! غور کرو کہ ایک طرف مرزا دعویٰ کرتا ہے کہ میں مامور من اللہ ہوں۔آپ بھی آج تک اس کی تصدیق کرتے رہے۔کم سے کم اگر مفتی و کذاب ہوتا تو آپ لوگ اس سے تعلق نہ رکھتے۔پھر وہ کہتا ہے کہ میرے متبع ہمیشہ تک ہاں قیامت تک میرے منکروں پر بڑھے چڑھے رہیں گے۔مرزا کا دعویٰ ہے کہ میں امام برحق ہوں جو مجھ امام برحق کو نہ مانے گا جاہلیت کی موت مرے گا۔دوسری طرف منشی الٰہی بخش صاحب کو الہام ہوتے ہیں کہ مرزا مسرف کذّاب ہے اور کم سے کم مرزا کی بیعت کو تو آپ بھی ایک لغو امر یقین کرتے ہیں جیسے آپ کے فعل سے ظاہر ہے۔پس کیا دونوں الہام مرزا جی کے اور منشی جی کے ایک چشمہ سے نکل سکتے ہیں۔ہرگز نہیں