ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 39
(النساء : ۸۳) آزاد خیال، مخالفان اسلام ، بل عامہ موافقان اسلام کو بھی کیسا موقع ہے کہ کہہ دیں کہ الہام بھی لغو اور بیہودہ چیز ہے کہ ملہم باہم ایسے متخالف ہیں حالانکہ الہام الٰہی ہی اختلاف مٹا دینے کاایک عمدہ ذریعہ ہو سکتا ہے۔حیرت ہے کہ ایک طرف تو خد ا کہے کہ تو عیسیٰ بن مریم ، مہدی، مجدد الوقت ہے اور دوسری طرف کہے کہ نہ فلاں شخص تو موسیٰ و عیسیٰ برگزیدہ وہ دوسرا عیسیٰ مفتری و کذاب ہے۔اب بتائیے کہ کس معیار سے ہم دونوں میں تفرقہ کریں۔حافظ صاحب! غور کرو اور سوچو اور تأمل سے کام لو! آپ کی بعض تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ مرزا خاموش ہو جائے حتیٰ کہ محمدحسین سے صلح کر لے دعاوی ترک کر دے۔مگر فرمائیے کہ جس کو الہام ہوتے ہوں کہ تو مہدی ہے۔مجدد ہے، عیسیٰ بن مریم ہے تو دعویٰ کر۔دعوت میں ہوشیار ہو جا۔تو کامیاب ہو گا۔وہ آپ کے کہنے پر کیونکر خاموشی اختیار کرے اور امام ہو کر آپ کا کیونکر ماتحت ہو۔(الاعراف:۱۲۹)کاپاک جملہ اور تائیدات الٰہیہ کا مقدس سلسلہ یقین دلاتا ہے کہ فیصلہ ہو کر رہے گا مگر انسان کو سعی کرنا لابُد ہے اور سنت اللہ کی مطابق ہے۔اس لئے عرض ہے کہ جناب کوئی موقع دیں جس میں اور آپ میں ملیں تو اس معاملہ پر روبرو کچھ گفتگو کی جاوے۔یہ ایک خطرناک مصیبت ہے کہ دو آدمیوں کو متخالف الہام ہوتے ہیں اور دونوں منجانب اللہ ہوں۔اگر منشی الٰہی بخش صاحب کچھ ارقام فرماتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ مرزا جی لکھتے ہیں بے نظیر شجاع ہیںبلکہ وہ تحریر کو اپنے لئے ایک تائید الٰہی اور کرامت و معجزہ یقین کرتے ہیں وَالْاَ مْرُحَقٌّ۔حافظ صاحب! ہماری جماعت میں بھی بہت سارے ملہم ہیں۔اگر صرف الٰہی الہام عام اشخاص کا خلفاء اللہ کو خلافت امامت مہدویت سے بیکار کر سکتا ہے تو تمام انبیاء و رسل اور ائمہ مہدیّین