ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 381
سے پوچھا کہ بھلا ختم نبوت کی کوئی دلیل تو بیان کرو کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس شخص نے اس وقت یہ اقرار صرف پیچھا چھڑانے کی غرض سے کر لیا ہے۔چنانچہ میرا وہ خیال درست نکلا اور اس نے یہ جواب دیا کہ آنحضرت کی کمال دانائی اور عاقبت اندیشی اس امر سے مجھے معلوم ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ختم نبوت کا دعویٰ کیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم زمانہ کی حالت سے یہ یقین کر چکے تھے کہ لوگوں کی عقلیں اب بہت بڑھ گئی ہیں اور کہ آئندہ ایسا زمانہ اب نہیں آوے گا کہ لوگ آئندہ کسی کو مرسل یا مہبط وحی مان سکیں۔اسی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے (نعوذ باللہ) دعویٰ کردیا کہ میں ہی خاتم النبیین ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو بڑے اعلیٰ درجہ کا دانا اور عاقبت اندیش انسان مانتا ہوں۔میں نے اس دلیل کو سن کر بہت ہی رنج کیا اور میرے دل کو سخت صدمہ اور دکھ پہنچا کہ یہ شخص بڑا ہی محجوب ہے اور بے باک ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ اولیائے کرامؓ کے حالات سے بھی نابلد محض ہے۔اب چونکہ ایک طرف تو اس سے مباحثہ ہوا تھا اور اس کا صدمہ دل پر ابھی باقی تھا۔دوسری طرف وہیں کے پرائم منسٹرنے مجھے حضرت اقدسؑ کا پہلا اشتہار دیا جس میں اس سوفسطائی کا ظاہر اور بیّن جواب تھا۔جونہی کہ پرائم منسٹر نے مجھے وہ اشتہار دیا میں فوراً اسے لے کر اسی عہدہ دار کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ دیکھو تمہاری وہ دلیل کیسی غلط اور ظنی ہے اس وقت بھی ایک شخص نبوت کا مدعی موجود ہے اور وہ کہتا ہے کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے یہ سن کر وہ نہایت گھبرایا اور متحیر ہو کر بولا کہ اچھا دیکھا جاوے گا۔آپ کاقادیان آنا میں تو چونکہ مجھے ایک تازہ چوٹ اسی وقت لگی تھی فوراً اس اشتہار کے مطابق اس امر کی تحقیقات کے واسطے قادیان کی طرف چل پڑا اور روانگی سے پہلے اور دورانِ سفر میں اور پھر قادیان کے قریب پہنچ کر قادیان کو دیکھتے ہی نہایت اضطراب اور کپکپادینے والے دل سے دعائیں کیں۔جب میں قادیان پہنچا تو جہاں میرا یکّہ ٹھہرا وہاں ایک بڑا محراب دار دروازہ نظر آیا جس کے اندر چارپائی پر ایک بڑا ذی وجاہت آدمی بیٹھا نظر