ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 380 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 380

أَقْلَلْنَ وَ رَبَّ الشَّیَاطِیْنَ وَ مَا أَضْلَلْنَ وَ رَبَّ الرِّیَاحِ وَ مَا ذَرَیْنَ فَإِنَّا نَسْأَلُکَ خَیْرَ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَ خَیْرَ أَہْلِہَا وَ نَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہَا وَ شَرِّ أَہْلِہَا وَ شَرِّ مَا فِیْہَا (المستدرک،کتاب المناسک، اوّل کتاب المناسک)۔اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہَا (تین بار) اللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا جَنَاہَا، وَحَبِّبْنَا إِلٰی أَہْلِہَا وَحَبِّبْ صَالِحِیْ أَہْلِہَا إِلَیْنَا(فقہ السنۃ،الصلاۃ، الجمعۃ) اب میں بڈھا ہوگیا ہوں مگر آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بچپن سے لے کر اب تک جن لوگوں کو میں نے اپنا دوست بنایا ہے وہ آج تک باوجود میری بہت عظیم الشان ترقیات یاوسیع علوم اور تجارب کے آج بھی مجھے وہ لوگ نیک ہی نظر آتے ہیں اور نہ ہی کسی بُرے انسان کو میرے ساتھ کبھی تعلق پیدا ہوا اور یہ خاص خدا کا فضل ہے۔میں نے بہت بزرگوں سے بیعت بھی کی ہے منجملہ ان مشہور لوگوں کے حضرت شاہ عبد الغنی صاحب مہاجر مدنی مجددی بھی ہیں اور ملک بخارا کی طرف کے مشہور لوگوں میں سے حضرت محمد جی نامی میرے پیر ومرشد تھے اور علماء میں سے مولوی عبد القیوم صاحب مرحوم، مولوی عبدالحی صاحب مرحوم کے صاحبزادے تھے اور ان کے سوا اور بزرگ بھی ہیں۔میں نے بڑے بڑے شہروں مثلاً۔لکھنؤ، رام پور، بھوپال، مکہ معظمہ ، یمن، مدینہ طیبہ اور آخرکشمیر وغیرہ میں اس دعا کے بعد جن جن لوگوں سے تعلق محبت یا نیاز پیدا کیا ہے وہ سب کے سب بحمد اللہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی میری سچی اور دردِ دل کی دعاؤں کو ضائع نہیں کیا اور نہ ہی کبھی مجھے کسی دھوکہ میں مبتلا کیا۔مباحثہ حضرت مرزا صاحب کا خیال مجھے پہلے پہلے اس بات سے پیدا ہوا کہ ایک بڑا انگریزی تعلیم یافتہ اور بہت بڑا عہدیدار شخص جو کہ مسلمان کہلاتا تھا میرا اس سے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت کے معاملہ میں مباحثہ ہوا کیونکہ وہ ایسے دعاوی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔آخر کار دوران گفتگو میں اس نے تسلیم کیا کہ میں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین یقین کرتا ہوں لہٰذا اس معاملہ میں مَیں اب بحث نہیں کرتا۔اس پر میں نے اس