ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 382 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 382

آیا۔میں نے یکّہ بان سے پوچھا کہ مرزا صاحب کا مکان کونسا ہے جس کے جواب میں اس نے اسی ریشائل مشبہ داڑھی والے کی طرف جو اس چارپائی پر بیٹھا تھا اشارہ کیا کہ یہی مرزا صاحب ہیں مگر خدا کی شان اس کی شکل دیکھتے ہی میرے دل میں ایسا انقباض پیدا ہوا کہ میں نے یکّے والے سے کہاکہ ذرا ٹھہر جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا اور وہاں تھوڑی دیر کے واسطے بھی ٹھہرنا گوارا نہ کیا۔اس شخص کی شکل ہی میرے واسطے ایسی صدمہ دہ تھی کہ جس کو میں ہی سمجھ سکتا ہوں۔آخر طوعاً وکرہاً میں اس مرزا کے پاس پہنچا۔میرا دل ایسا منقبض اور اس کی شکل سے متنفر تھا کہ میں نے السلام علیکم تک بھی نہ کہی کیونکہ میرا دل برداشت ہی نہیں کرتا تھا۔الگ ایک خالی چارپائی پڑی تھی اس پر میں بیٹھ گیا اور دل میں ایسا اضطراب اور تکلیف تھی کہ جس کے بیان کرنے میں وہم ہوتا ہے کہ لوگ مبالغہ نہ سمجھ لیں۔بہرحال میں وہاں بیٹھ گیا دل میں سخت متحیر تھا کہ میں یہاں آیا کیوں؟ ایسے اضطراب اور تشویش کی حالت میں اس مرزا نے خود ہی مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔میں نے نہایت روکھے الفاظ اور کبیدہ کبیدہ دل سے کہا کہ پہاڑ کی طرف سے آیا ہوں۔تب اس نے جواب میں کہا کہ آپ کا نام نورالدین ہے؟ اور آپ جموں سے آئے ہیں؟ اور غالباً آپ مرزا صاحب کو ملنے آئے ہوں گے۔بس یہ لفظ تھا جس نے میرے دل کو کسی قدر ٹھنڈا کیا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ شخص جو مجھے بتایا گیا ہے مرزا صاحب نہیں ہیں۔میرے دل نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ میں اس سے پوچھتا کہ آپ کون ہیں؟میں نے کہا ہاں اگر آپ مجھے مرزا صاحب کے مکانات کا پتا دیں تو بہت ہی اچھا ہوگا۔اس پر اس نے ایک آدمی مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجا اور مجھے بتایا کہ ان کا مکان اس مکان سے باہر ہے۔اتنے میں حضرت اقدسؑ نے اس آدمی کے ہاتھ لکھ بھیجا کہ نماز عصر کے وقت آپ ملاقات کریں۔یہ بات معلوم کر کے میں معاً اُٹھ کھڑا ہوا اور اس جگہ نہ ٹھہرا۔آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایک شریف انسان کسی شریف انسان کے مکان پرجاتا ہے اور سلام علیک تک کاروا دار نہیں ہوتا باوجودیکہ صاحب مکان اس کی ہر طرح کی مدارات بھی کرتا ہے؟ آپ غور کریں کہ یہ کس