ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 379
نہیں ہو سکتی۔مخلوق جس طرح اپنے رنگ، شکل وشباہت اور آرزؤں کے لحاظ سے مختلف واقع ہوئی ہے اسی طرح بلحاظ ذوق بھی اس میں عظیم اختلاف پایا جاتا ہے اور اس کی ہزار مثالیں دنیا میں موجود ہیں۔یہی وجوہ ہیں کہ میں بھی اس معاملہ میں اپنے ذوق کے اظہار کی ضرورت نہیں سمجھتا تھا۔قبولیت دعا اصل بات یہ ہے کہ میں بہت سے وجوہ سے قبولیتِ دُعا کا بڑا قائل ہوں اور میں نے جب سے ہوش سنبھالی ہے ہزاروں قسم کے مشکلات میں تجربۃً دعاؤں کو بہت ہی مفید پایا ہے اور یہ بجائے خود ایک بڑا بھاری سلسلہ ہے اگر خدا نے توفیق دی تو میں اپنی دعاؤں کے اس بڑے حصے کو بھی بیان کروں گا اس وقت میری عمر ستّر برس کے قریب ہے اور دعاؤں کا خیال مجھے سن بلوغ سے بھی پہلے کا پیدا ہواہے اور میں نے ہمیشہ بڑے بڑے خطرناک اورہلا دینے والے وقتوں میں دعاؤں کا تجربہ کیا ہے اور ایک مسلمان انسان کے واسطے یہ مسئلہ کافی ہے کہ مضطر انسان کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے کیونکہ قرآن شریف میں وارد ہے (النمل : ۶۳) لہٰذا ایک مسلمان عقیدہ کے انسان کے واسطے قبولیت دعا کی فلاسفی پر کوئی لمبی چوڑی بحث کرنے کی حاجت بھی نہیں معلوم ہوتی۔شہر میں داخل ہونے کی دعا اس کے بعد ایک اور امر جو قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ ہمیشہ سے میرا یہ قاعدہ ہے کہ میں جب کسی شہر میں جاتا ہوں یا کسی گاؤں کی طرف رخ کرتا ہوں اور اس شہر یا گاؤں کے قریب پہنچ کر اس کی بیرونی حالت کو دیکھ لیتا ہوں تو وہیں سے نہایت اضطراب اور دردِ دل سے وہ دعائے مسنونہ ہمیشہ پڑھا کرتا ہوں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت مانگنے کا ارشاد فرمایا ہے اور میرے دوست جو میری صحبت میں رہتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے اپنے وعظوں، لیکچروں اور درس قرآن میں اس کا بار ہا ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔اَللّٰہُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَ مَا أَظْلَلْنَ وَ رَبَّ الْأَرْضِیْنَ السَّبْعِ