ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 378 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 378

نہیں ہوسکتا وہاں دعا کے ذریعہ کامیابی ممکن اور یقینی ہوتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ دعا کی قبولیت کے تمام شرائط اور لوازم مہیا و میسر ہوں۔عمدہ دعا (الفاتحۃ:۶)ہے جس میں نہ کسی خاص مذہب کا نام ہے اور نہ کوئی خاص پہلو اختیار کیا گیاہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ حضرت اقدس ؑ کے ان الفاظ کا جو آپ نے بعد نماز فرمائے مطلب سب لوگ سمجھیں اور اس پر کاربند ہوں۔(الحکم جلد ۱۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۲؍ اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱،۴ ) حضرت مسیح موعود ؑ کو کن دلائل سے مانا؟ حضرت حکیم الامت ؓ سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ آپ نے حضرت مرزا صاحب کو کن دلائل سے مانا؟ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ہر ایک شخص کے ذوق اور فہم کے مطابق الگ الگ دلائل ہوتے ہیں جس دلیل سے ایک شخص کسی کی سچائی پر ایمان لاتا ہے ممکن ہے کہ دوسرے کے نزدیک وہ دلیل ہی نہ ہو یا ایک ضعیف دلیل ہو۔غالباًیہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ صحابہ کرامؓ نے اپنے ایمان کے وجوہ کا اظہار لوگوں کے سامنے نہیں کیا اور اسی طرح تمام ائمہ دین نے جن جن وجوہ سے اسلام اختیار کیا یا کسی کو بزرگ مانا ان کے وہ ذوقی دلائل ہیں۔کہیں تاریخوں میں نظر نہیں آتے جو ان کے لئے باعث اعتقادات ہوئے۔ان کا خصوصیت سے ان بڑے لوگوں نے تذکرہ نہیں کیا بلکہ ہم اگر اس سے آگے بڑھیں تو انبیاء رسل اور ملائکہ نے بھی بیان نہیں کیا کہ کن کن وجوہ سے انہوں نے وحی کے فرشتے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر یقین کیا۔کیونکہ یہ ان کے اپنے ذاتی ذوق ہوتے ہیں اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ ایک دلیل جس سے کوئی خاص شخص کسی امر کی سچائی پر یقین کرتا ہے وہی تمام دنیا کے واسطے اس سچائی پر ایمان لانے کے واسطے حجت