ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 355
فرمایا کہ اس طرز ادا میں ایک عجیب نقطہ یہ بھی ہے کہ اول تین طرزوں پر لفظ واؤ آیاہے اور بعد کی دو طرزوںپر لفظ فا آیا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ پہلی تین طرزوں پر انسان جب خود کوشش اور سچی سعی کر کے کاربند ہو جاتا ہے تو آخری دونوں باتیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور انعام جو نتیجہ ہوتا ہے پہلی کوشش کا عطاء کر دی جاتی ہیں اور یہ دونو ں بطور انعام انسان کو خود بخود حاصل ہوجاتی ہیں۔(الحکم جلد۱۲ نمبر ۱۷مورخہ ۶؍ مارچ۱۹۰۸ء صفحہ ۵ ) بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم احباب و اخوان احمدیہ کی خدمت میں ایک عرض السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں ایک رات اپنی عمر اور بہت بڑی عمر جو عمر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری حد پر پہنچنے کو ہے۔سوچتے سوچتے بہت گھبرایا کہ کیا کیا؟ بعد الموت نتائج پر غور کرتا ہوا التحیات کے اسرار کی طرف جھکتا جھکتا مثنوی کے طوطے والی کہانی کی طرف جا پہنچا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک طوطے نے اپنے تاجر کو کہا کہ ہند کے طوطیوں کو میرا سلام پہنچا دینا۔منشاء یہ تھا کہ کس طرح میں اس قید سے نجات پاؤں۔تو ان طوطوں نے کہا کہ جب تک وہ ایک قسم کی موت اپنے اوپر نہ لاوے تو نجات محال ہے …۔میں طوطیان الٰہی ارواح شہداء اللہ کی طرف جو جوف طیر خضر میں عرش سے متعلق ہیں انتقال کر گیا اور اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ اور اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ پر تدبّر کرتے کرتے جوش کے ساتھ جناب الٰہی کو تاجر بنایا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(التوبۃ : ۱۱۱) یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور اموال خرید لئے ہیں اور اس کے بدلہ میں ان کو جنت دینے کا وعدہ دیا۔پس اسی لئے ہر ایک مومن کو چاہئے کہ وہ اپنی جان اور