ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 354
یہاں روایت کاعجب حال ہے۔ان کی یہاںوہ گروہ عظیم تو ظالموں، غاصبوں، کافروں، مرتدوں اور منافقوں کا ہے۔ان کی روایت کیوں معتبر ہو نے لگی؟ اور دوسرا گروہ ایسا ہے کہ اگر ان کی روایت موافق مل گئی بہتر۔وَ اِ لاَّ کہہ دیا یہ تقیہ کے باعث فرمایا ہے۔غور کرو اب روایت سے کیا فائدہ ہوا۔قرآن کریم خود امام غائب کے پاس ہے۔اب دوسرے مسألہ پر عرض ہے قیام رمضان کا چونکہ تاکیدی حکم ہے اور تہجد ہمیشہ پڑھی جاتی ہے اس لیے بعض صحابہ کرام کا اجتہاد ہوا کہ اکتالیس رکعت تراویح ہواور بعض کااجتہاد بیس کا۔ہم لوگ گیارہ ہی پڑھتے ہیں خطبہ کے وقت دو رکعت نماز پڑھنا ہم لوگوں میں مروج ہے اور اس کو مسنون یقین کرتے ہیں۔نورالدین (البدرجلد ۷ نمبر ۸ مورخہ۲۷ ؍فروری۱۹۰۸ء صفحہ۳ ،۴) کامیابی کاراز مخدومنا حضرت حکیم الامت فرمایاکرتے ہیںکہ کسی امر کے حصول کی کوشش کے وقت خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی، امور ذیل کاخیال رکھنا کامیابی کی کلید ہے۔(۱) اور خیالات سے خالی الذہن ہوکر اسی خاص کام میں مستغرق ہوجانا۔(۲) خاص نشاط اور خوشی سے اس کام کو دلی شوق سے کرنا۔(۳) اس کام کے کرنے میں کسی قسم کی کوئی روک باقی نہ رہنے دینا رکاوٹوں کادور کر لینا گویا تیرتا ہوا جارہا ہے۔(۴) دل میں اپنے ساتھیوں سے سبقت لے جانے کے خیال بھی موجزن ہونا۔(۵) پھر ایسی سعی بلیغ ہوکہ خود موجد بن جاوے اور ایسا غور و خوض ہو اور ایسی تدابیر سوچتا رہے کہ اس کام میں نئی نئی ایجادیں کرلے۔ان پانچوں اصول کو قرآن کریم نے عبارت ذیل میں بیان فرمایا ہے۔ (النّٰزعٰت:۲تا۶)