ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 356
مال کو بجز پر وانگی الٰہی کے خرچ نہ کیا کرے کیونکہ اس نے تو اپنی جان اور مال کو خدا کے ہاتھ بیچ دیا ہے۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا نام مشتری تاجر رکھا ہے۔اس سلسلہ میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و برکات و سلام پڑھنے شروع کئے۔آخر اس شغل کے بعد مجھے خیال پیدا ہوا کہ میں اپنے اصحاب بناؤں کَیْ نُسَبِّحُ اللّٰہَ کَثِیْراً وَّ نَذْکُرُہ کَثِیْراً اور ان کے لئے کوئی امتیازی نشان قائم کروں۔وَالْحَمْدُلِلّٰہِ کہ شرک و بدعت سے متنفر اور لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ پر ایمان لانے والوں میں سچے اور پکّے سنّت جماعت فرقہ احمدیہ جو سنّت ِ متوارثہ پر عمل کرکے سنّی اور امام کے ماتحت ہوکر جماعت ہیں۔ان میں سے میں نے حسن ظن، استقلال مرنج و مرنجان حالت والے دُعاؤں کے قائل لوگوں کو بقدر اپنے فہم و محدود معاملہ کے دوست بنایا اس میں چند اغراض تھے۔اوّل۔کم سے کم یہ میرے لئے میرے ایمان کے شہداء اللہ فی الارض ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ صالحین جس کی نسبت اچھی گواہی دے دیں وہ جنتی ہوتا ہے اور جس کی نسبت بُری گواہی دیں وہ ناری اور دوزخی ہوتا ہے۔ان شہداء اللہ فی الارض کی شہادت سے میں انشاء اللہ اِرثُ مَااُرث من اللّٰہ۔دوم۔اس میل جول سے باہم تعاون علی البرّ والتقوٰی کے مصداق بن جاویں اور بارآور انصار ہوں۔سوم۔بعض ایسے خاص فضل الٰہی ہوتے ہیں جو بغیر اتفاق اور اتحاد اور جماعت کے نہیں ملتے۔اس بات کو میں نے مدنظر رکھ کر ایک مجمع احباب بنایا ہے تاکہ باہمی دوستانہ تعلقات سے کوئی فیضان الٰہی خاص طور پر نازل ہو جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجاوے اور ہمیں خادم اسلام و مسلمین کردے۔چہارم۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن سبعۃ یظلھم اللّٰہ یوم … لاظل الا ظلہ (بخاری کتاب المحاربین من اھل الکفر والردۃ باب فضل من ترک الفواحش)۔سات قسم کے