ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 334
نیز صدقہ فطر کے لئے آپ نے عامل مقرر کیا۔۱۲ جناب جج صاحب منت فرماویں بدوں اس کے کوئی اور تدبیر ممکن ہے۔با مسلمان اللہ للہ با برہمن رام رام سے وحدت حقیقت نہیں ہوسکتی۔نیچریوں نے وحدت چاہی مگر خود اعمال اسلام میں ایسے سست نکلے کہ کفر بھلا ہے۔نور الدین اب ٹوٹے ہوئے شیرازہ کا از سر نو باندھنے والا چاہیے۔۵؍جولائی۱۹۰۷ء (البدرجلد ۶ نمبر ۲۸مورخہ۱۱؍ جولائی ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) سوالات کے جواب نمبر۱ سوال نمبر۱۔نبی اور رسول میں کیافرق ہے؟ جواب۔نبی کا لفظ نبوت سے نکلا ہے اور نبوت کے معنے رفعت اور بلندی کے ہیں یا لفظ نبا سے نکلا ہے نبا کے معنے خبر دینا۔پس نبی کے معنے ہوئے بڑا یا خبر دینے والا۔رسول کے معنے بھیجا ہوا۔دونوں کا فرق بالکل ظاہر اور صاف ہے۔سوال نمبر۲۔لفظ آریہ کی وجہ تسمیہ کیا ہے؟ جواب۔آریہ لفظ کی تشریح کرنا آریہ سماج کا کام ہے میرا کام نہیں۔سوال نمبر۳۔زمانہ سابق میں کسی پیغمبر نے ملک الموت کو طمانچہ مارا اور آنکھ نکل گئی؟ جواب۔تمام بیماریاں اور ہلاک کرنے کے اسباب ملک الموت ہیں!ملک کے ماتحت۔پس جس قدر علاج اور ازالہ امراض کی تدابیر ہیں اول تو یہ طمانچہ نہیں دوم ملائکہ ہمیشہ اپنے مقام معلوم میں رہتے ہیں جو کچھ ان کے نزول کا تمثل ہوتا ہے اس پر طمانچہ بھی لگ سکتا ہے۔آثار و روایات میں ایسا قصہ آیا ہے اس کے معنے میرے نزدیک یا میرے فہم میں یہ ہیں کہ اس متمثل کو مارا اور اس کا مقابلہ کیا۔سوال نمبر۴۔لفظ مہتر کے کیا معنے؟ مہتر خاکروب کو کیوں بولا جاتاہے؟