ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 299
مل سکتی بلکہ وہ خواص کا خاصہ ہے۔نمبر۱۵۔یَعْصِمُکَ اللّٰہُ وَلَوْ لَمْ یَعْصِمُکَ النَّاسُ یَعْصِمُکَ اللّٰہُ اور باوجود اس قدر ممتد زمانہ گزرنے اور کثرت اور قوت مخالفین کے ان کی سب تدابیر ناکام گئیں اور آپ کو اللہ قدیر نے ان کی شرارتوں سے معصوم اور محفوظ رکھا ہے اور آئندہ بھی ضرور رکھے گا۔نمبر۱۶، نمبر۱۷، نمبر۱۸، نمبر۱۹۔دیکھو خدا وند کریم نے ایک با امن گورنمنٹ قائم کر کے کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے لئے تمکین دین کی اور جو ابتدا میں خوف پیدا ہوئے وہ رفتہ رفتہ کس طرح دور ہوتے جاتے ہیں اور آپ اللہ کی عبادت کرتے اور شرک نہیں کرتے۔اور جس قدر بڑے بڑے مکفرین تھے قریباً سب تباہ ہوگئے جو چند باقی ہیں ان کا انجام بھی دیکھنے والے دیکھ لیں گے۔نمبر۲۰۔جو شخص آپ کے مشن سے واقف ہوگا وہ یقین کرے گا کہ آپ کسی پہلے ایک فرقہ کی طرف نہیں جھکے بلکہ ہر ایک فرقہ میں جو حق تھا لے لیا اور جو باطل تھا وہ پھینک دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر ایک فرقہ آپ سے مل بھی سکتا ہے اور نیز ہر ایک آپ سے راضی بھی نہیں ہے۔اب میں اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ہاں اس قدر کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر آپ کو قربت قریبہ والے مہدی کا بہت خیال ہے تو پھر ابن خلدون کو ذرا غور سے پڑھیں یا سنیں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ روایت اور درایت کس قدر کمزور بلکہ مردودہے۔(الحکم جلد۱۰ نمبر۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۶ء صفحہ۷ تا۱۱)