ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 298 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 298

مقابلہ میں اور معارف قرآن مجید بیان کرنے میں اور عربی کتابوں کے مثل لانے میں کیسا نیچا دکھایا وغیر ذالک۔نمبر۱۰۔حضرت مسیح موعود کسر صلیب یا یوں کہو قتل خنازیر کے واسطے اور وضع حرب کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔پس دیکھو کہ وفات مسیح کا مسئلہ جو کہ کسر صلیب کا حربہ ہے کس طرح اس کے پہلے سے پھیل گیا اور عیسائی کس طرح بائیبل اور کفارہ کو خیر باد کہنے لگے۔نمبر۱۱۔قوتِ تطہیر کا پتہ آپ کی جماعت کے صحبت یافتہ بااخلاص افراد کے مشاہدہ سے لگ سکتا ہے کہ ان میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی جس سے ابدال بنے۔نمبر۱۲۔علم قرآن کے مقابلہ کے واسطے سب علماء و صوفیا اور عرب وعجم کو بلایا پر کوئی بھی اس مقابلہ کے لئے نہ نکلا۔نمبر۱۳۔جیسا کہ پہلے انبیاء کے لئے آیا ہے۔ (یوسف : ۱۱۰) اور فرمایا۔(الأَنعام : ۴۹) اور (البقرۃ : ۱۳۰) یہ سب باتیں ہمارے آقا نامدار میں موجود ہیں نہ یہ سُرَّمَنْ رَاٰی کے گم گشتہ طفل کی طرح کئی صدیوں کے بعد کسی غار سے نکلا اور نہ مسیح کے پوجاریوں کے فرضی مسیح کی طرح آسمان پر زندہ بجسد عنصری رہ کرصیہون یا بیت المقدس یا کسی پہاڑ یا مسجد پر اتر کر کسی سیڑھی اور زینہ کا محتاج ہو کر  (الأَحقاف : ۱۰) ٹھہرا ہے اور نہ کسی اسرائیلی شریعت کی اتباع سے نبی بن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا توڑنے والا قرار پایا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی اتباع سے اس نے حاصل کیا جو کیا فَتَبَارَکَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ۔نمبر۱۴۔بہت سے مولویوں کو مثل مولوی محمد حسین وغیرہ کو مباہلہ کے واسطے بلایا پر مقابل پر نہ آئے اور غلام دستگیر قصوری نے کیا۔ہلاک ہوا اور عبد الحق نے کیا وہ ذلیل ہوا اور ہمارے آقائے نامدار کو اس کے بعد وہ عزت اور ترقی ملی جو کہ مباہلہ کے بعد کسی کاذب کو ہرگز نہیں