ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 300
سوالات اور ان کے جوابات ماسٹر احمد حسین صاحب نے امرتسر سے چند سوال بھیجے جن کے جواب حضرت مولوی صاحب نے تحریر فرمائے ہیں۔مکرمی و معظمی حضرت حکیم الامت ادام اللہ برکاتہ۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ذیل کے چند سوالات دریافت طلب ہیں۔ان کے جواب اگر مناسب تصور فرمائیں تو بذریعہ الحکم یا بدر شائع فرما دیں۔ورنہ بذریعہ پرائیویٹ چٹھی ہی مرحمت ہوں۔عین کرم بزرگانہ ہوگا۔سوال۔حالت جنب، حالت مباشرت اور جائے ضرور میں اگر کسی امر پر اللہ تعالیٰ کا شکر دل میں پیدا ہوتو آیا زبان سے اس کا اظہار بالفاظ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وغیرہ (جو اکثر بے ساختہ ہو جاتا ہے)جائز ہے یا نہیں؟ جواب۔جنبی حالت جنابت میں اور جماع کنندہ حالت جماع میں الحمد للہ کہے۔حدیث میں ہے کَانَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمْ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ (صحیح البخاری کتاب الاذان باب ھل یتبع المؤذن۔۔۔۔)۔البتہ بول و براز میں تصریح سے ثابت نہیں کہ حضور علیہ السلام نے منہ سے فرمایا ہو۔مگر پہلی حدیث سے پتہ لگ سکتاہے۔سوال۔ظہر کے وقت فرض سے بعد کی دو رکعت سنت غیر مؤکدہ کہلاتی ہیں۔تو آیا بوقت عجلت و عدم فرصت ان کے ترک سے معصیت لازمی آتی ہے یا نہیں۔جواب۔سنتیں تکمیل فرائض کرتی ہیں ضرورت پر عفو ہوسکتی ہے واِلَّا فرائض ناقص رہیں گے۔سوال۔غیر احمدی لوگ جو اپنی جگہ پر عقیدۃ میں ہم سے صریح سخت مخالفت رکھتے ہیں۔اگروہ بڑے اخلاق سے سلام میں پیش قدمی کریں تو ان کے جواب میں وعلیکم السلام کہنے کے علاوہ ہمیں بھی ان پر سلام کہنے میں پیش قدمی کرنا جائز ہے یا نہیں؟