ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 295 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 295

نمبر۶۔اس نمبر میں زیادہ نہیں لکھتا عیان راچہ بیان۔ہاں اگر مخالفین دہلی کے ناصح کے اس مصرعہ پر عمل کرتے ع چشم عبرت بر کشا قدرت حق رابہ بین تو یقینا یقینا وہ ضرور یہ مصرعہ دہراتے ع شامت اعمال ماایں صور ت درگرفت مگر کیا پہلوں کو کبھی یہ عبرت نصیب ہوئی ہے کہ ان کو بھی ہو۔نمبر۷۔اس نمبر میں آپ لیکچراروں کے ان لیکچروں پر ذرہ نظر غور کریں کہ جن میں انہوں نے اسلام اور اہل اسلام کی حالتِ زار اور اپنے علماء و سجادہ نشین و امراء کی نازک حالت پر خون کے آنسوؤں سے رویا ہے۔الغرض کہ اگر کوئی اہل اسلام کی اندرونی حالت پر بھی نظر کرے اور بیرونی حملوں پر بھی غور کرے تو وہ یقین کر سکتا ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی ضرورت حقہ ہو سکتی ہے۔نمبر۸۔یہ نمبر ایسا وسیع ہے کہ اگر سب آیات مسیح موعود علیہ السلام درج کروں تو ایک ضخیم کتاب چاہئے اور حضرت اقدس اور ان کے خدام کی تصانیف میں بہت کچھ درج ہیں البتہ یہاں پر خصوصیت کے ساتھ تین آیتیں درج کرتا ہوں کہ ان میں سے ایک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (روحی فداہ) کے سوا نہ کسی نبی کو ملی تھی اور نہ کسی رسول کو اور بقول آپ کے کسی نائب برحق کو دی گئی تھی اور دوسری دو ایسی ہیں کہ حضرت آدمؑ سے لے کر قیامت تک سوائے حضور مسیح موعود علیہ السلام کے کسی کو نہیں ملی ہے اور نہ ملے گی۔اوّل تو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ علیم حکیم نے افصح العرب والعجم بنایا تھا اور پھر ایسا کلام ان کو دیا کہ جس نے علیٰ رؤوس الاشہاد یہ کہہ کر  الخ (البقرۃ : ۲۴) مخالفین کی ناک کو خاک پر رگڑ دیا۔