ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 294 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 294

قائم کئے گئے، گورنمنٹ کی بغاوت کی مخبریاں ان کے لیڈروں نے کیں پر ان سب کا نتیجہ کیا ہوا کہ ہمارا آقا ومطاع میرے جدّ امجد حسین علیہ السلام کی طرح کبھی ان یزیدیوں کے تیروں اور خنجروں کا نشانہ نہ بنا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح ہر ایک میدان میں مظفر ومنصور ہوا اور باوجود ان روکوں کے اب حضور کی جماعت تین لاکھ سے متجاوز ہے۔نمبر۵۔ہمارے آقا و مطاع علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دعویٰ سے پہلے براہین احمدیہ میں خدا کی وحی شائع کی تھی جو اس نصرت کی پیشگوئی تھی اور وہ یہ ہے۔’’دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔‘‘(تذکرہ صفحہ۸۱، ایڈیشن ۲۰۰۴ء) اور فرمایا یَنْصُرُ کَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْھِمْ (تذکرہ صفحہ۳۹، ایڈیشن ۲۰۰۴ء)وغیرھا۔پس کیا آپ اس کی نظیر میں کوئی کاذب شخص پیش کر سکتے ہیں کہ جس نے گمنامی اور کسمپرسی کی حالت میں شائع کیا ہو کہ اللہ علیم قدیر نے اپنی تازہ وحی مجھ پر نازل کی ہے کہ میں تیری نصرت کروں گا اور پھر اسی طرح اس کی نصرت کی ہو۔مفتری اور تقوّل علی اللہ کرنے والے کو اللہ ناکام اور ہلاک کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرمایا  (طٰہٰ : ۶۲) اورفرمایا۔(الحاقۃ : ۴۵تا۴۸) اور اگر یہ کہے کہ ابھی پورا غلبہ نہیں ہوا تو اس کا جواب میں وہی دوں گا جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ ابی و امی و روحی) کی نصرت اور غلبہ پر اعتراض کرنے والوں کو خداوند علیم و حکیم نے دیا تھا اور وہ یہ ہے (الأنبیآء : ۴۵) یعنی جب اس ضعف اور بیکسی اور بے بسی کی حالت میں کفر کی زمین کم ہوتی جاتی ہے اور اسلام کی زمین بڑھتی جاتی ہے تو کیا معترضین پھر بھی خیال کرتے ہیں کہ وہ غالب آجائیں گے۔