ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 296
اسی طرح اس نے اپنے پنجاب کے ایک گاؤں کے رہنے والے آنحضرت کے خلیفہ کو افصح العرب والعجم بنایا اور بہت سی کتابوں میں تحدی کر کے عرب وعجم کو ان کی مثل بنانے پر بلایا اور علیٰ رؤوس الاشہاد یہ شائع کر کے مخالفین کی قیامت تک ناک کاٹ دی آپ خدا کے لئے ذرا غور تو کریں بھلا یہ کسی انسان کا کام ہے۔اور باقی دو کی تفصیل یہ ہے کہ میرے جدّ امجد حضرت محمد باقر سے ایک حدیث مروی ہے جو کہ کتاب دار قطنی میں صدیوں سے درج چلی آتی ہے اور اس کی عبارت یہ ہے۔اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا آیَتَیْنِ لَمْ تَکُوْنَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ تَنْکَسِفُ الْقَمَرُ لِاَوَّلِ لَیْلَۃٍ مِّنْ رَّمَضَانَ وَ تَنْکَسِفُ الشَّمْسَ فِیْ نِصْفِ مِنْہُ۔(سنن الدارقطنی کتاب العیدین باب صفت صلاۃ الخسوف والکسوف و ھیئتھما حدیث نمبر۱۷۷۷) اور اس کو خدا وند کریم نے پرانی اور نئی دنیا دونوں میں پورا کر دکھا یا جس کو سب دنیا نے دیکھا اور سنا ہے پس جس طرح کسی نے ثابت نہیں کیا اور نہ کر سکتا ہے کہ پہلے زمانہ میں کبھی ایسا ہوا۔اسی سے ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ بھی کبھی نہ ہوگا۔یہاں پر ایک بات کی طرف تو میں آپ کو توجہ دلاؤں گا اور پھر عام طور پر سب مدعیان محبت اہل بیت اور ائمہ اثنا عشر اور خصوصاً ان کی اولاد کو نصیحت کروں گا شاید کوئی سعیدالفطرت فائدہ اٹھائے۔آپ کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جس قدر دنیا میں سادات ہیں بجز اس کے ان کی سیادت کی کوئی سند نہیں ہوتی کہ ایک شجرہ نسب لکھا ہوا رکھا ہوتا ہے یا قبروں اور مریدوں پر حوالہ کیا جاتا ہے اور میں نے بچشم خود سادات بنتے دیکھے ہیں اور شیعہ کے خمس نے تو اور بھی غضب مچا دیا ہے۔پر ہمارے امام مہدی اور مسیح موعود کی قربت قریبہ کو سیّدنا زین العابدین علیہ السلام کی حدیث کیا ثابت کرتی ہے دیکھو وہ یہ نہیں فرماتے اِنَّ لِمَھْدِیْ آیَتَیْنِ بلکہ وہ فرماتے ہیں اِنَّ لِمَھْدِیِّنَا آیَتَیْنِ اور سورج چاند کے ایک رمضان میں گرہن لگنے نے جوکہ خدائی فعل ہے