ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 28
ایک طالب علم کو دینیات کا سبق یاد نہ کرنے پر سرزنش مدرسے سے ایک طالب علم کی دینیات کا سبق یاد نہ کرنے کی وجہ سے مولانا ممدوح کے پاس شکایت ہوئی۔آپ نے اس کو بلا کر فرمایا ’’مجھے شکایت پہنچی ہے کہ تم نے دینیات کے پڑھنے سے انکار کیا ہے ایک شخص یہاں موجود ہے (ایڈیٹر الحکم کی طرف اشارہ )اور وہ گواہ ہے۔اس نے کسی طبیب کاپیغام مجھے دیا کہ اولاد ہونے کے لئے میں اس کا علاج کروں۔میں نے اس کو یہی جواب دیا کہ مجھے دیندار اولاد کی ضرورت ہے محض اولاد مطلوب نہیں۔پس میں دین کے سوا کسی چیز کو پسند نہیں کر سکتا۔مدرسہ کے اجرا سے اگر کوئی غرض ہے تو دینی تعلیم۔اس لئے اگر تم دینیات پڑھنا نہیں چاہتے تو فی الفور یہاں سے چلے جاؤ۔میں نے امام کے ہاتھ پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہے۔اس لئے کوئی شخص جو میرے ساتھ کوئی تعلق رکھتا ہے لیکن دین کو دنیا پر مقدم نہیں کرنا چاہتا میرا اس سے کچھ تعلق نہیں رہ سکتا۔تم کو یہ خوب معلوم ہے کہ میں یہاں کسی دنیا طلبی کے لئے نہیں بیٹھا۔دین کے لئے آیا ہوں اور صرف دین کے لئے۔پھر تم دیکھو کہ باوجودیکہ کوئی نہیں جانتا میرے مولا کریم کے سوا کہ وہ مجھے کہاں سے دیتا ہے۔پھر میں نے تمہارے اخراجات باوجود ایسی حالت کے مساکین فنڈ سے نہیں دلائے میں نے خود برداشت کئے پھر ایسی حالت میں بھی اگر تم دین کو حاصل کرنا نہیں چاہتے تو میں تم کو اپنے پاس قطعاًنہیں رکھ سکتا۔یاد رکھو دنیا میں میں کسی ایسے شخص کو جو دین سیکھنا نہیں چاہتا ہر گز اپنے پاس اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتاکیونکہ میرا ارادہ ، میرا خیال کچھ نہیں رہا میں اسے دوسرے کے ہاتھ پر بیچ چکا ہوں۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ بیوی ہو ، لڑکی ہو ، کوئی ہو اگر اسے دینیات کی خواہش نہیں تو مجھے اس سے کوئی غرض رہ نہیں سکتی۔‘‘ (الحکم جلد۳ نمبر۵ مورخہ ۱۰؍فروری ۱۸۹۹ء صفحہ۹) مکتوب ایک شخص مسئلہ قربانی پر سوا ل کرتا ہے کہ یہ خلاف رحم ہے؟ اُس کا جواب دیا گیا ہے۔السلام علیکم۔آپ کا خط بنام حضرت امام پہنچا اور جواب کے لئے مجھے مرحمت ہوا۔قربانی