ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 27

تسلط نہیں۔ (الحجر :۴۳)کا طلب بہت صاف ہے۔دیکھو دیکھو اس کا ترجمہ ہم لکھتے ہیں اور نہیں بھیجا تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نبی مگر جب وہ خواہش کرتا ہے تو ہلاک ہونے والا خدا سے دور ( شیطان) اس کی خواہش میں روک ڈالتا ہے۔اللہ تعالیٰ شیطان کی روک کو دور کر دیتا ہے اور اپنے آیتوں کو مستحکم کر دیتا ہے دیکھ لو موسیٰ کو جب اس نے خواہش کی کہ بنی اسرائیل کو مصر سے چھوڑا کر کنعان لاوے تو فرعون شیطان نے روک ڈال دی مگر آخر وہ غرق ہوا اور خدا کی بات پوری ہوئی۔مسیح کی خواہش میں یافہ کا ہن اور یہودی شیاطین نے روک ڈالی تو آخر اللہ تعالیٰ نے مسیح کو کامیاب کر ہی دیا اور یہود ذلیل ہو گئے۔محمد رسول اللہ ﷺ کی خواہش میں ابوجہل ابو لہب جیسے شیاطین روکیں ڈالتے رہے۔آخر خدا کی باتیں پوری ہوئیں۔رسول خدا مسجد میں جنابت کے وقت نہیں جا سکتے تھے اور ایسے قصص معتبر کتابوں میں نہیں ہیں۔طلاق وغیرہ کے وہ بھی پابند تھے۔انبیاء سب معصوم ہوتے ہیں اور استغفار عجیب و غریب دُعا ہے۔استغفار کے معنے محفوظ رکھنے کی طلب کرنا۔اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ۔میں اللہ تعالیٰ سے حفاظت طلب کرتا ہوں۔شفاعت کی بحث فصل الخطاب میں آپ دیکھیں۔گناہوں کے اقسام ہیں۔ہر ایک کی معرفت جدا اقسام معاصی کو دور کر دیتے ہیں اور حوروں کے متعلق بحث بسط چاہتی ہے کسی موقعہ پر انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے خط کا جواب مفصل تحریر ہو گا۔والسلام نور الدین (الحکم جلد ۲ نمبر ۱۶،۱۷ مورخہ ۲۰۔۲۷ جون ۱۸۹۸ء صفحہ ۴ )