ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 29 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 29

کے متعلق چند امور آپ یاد رکھیں اور ان پر خوب غور کریں۔دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک اللہ تعالیٰ کے منکر دوسرے قائل۔منکر وں کے نزدیک تو رحم کیا ہے۔اعتراض ہی نہیں اور نہ آپ کی طرف ان کے متعلق کچھ لکھنا مفید ہے۔اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے قائل ہیں اور آپ بھی ان میں سے معلوم ہوتے ہیں وہ ذرا غورکریں۔ہوا میں نظر کریں باز شاہین شکرہ کس قدر شکا رکرنے والے جانور موجود ہیں اور کس طرح پرندوں کو پکڑ کر کھا جاتے ہیں۔ذرہ بھی رحم نہیں کرتے کیا بازوں کو اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا۔اسی طرح جنگلوں میں شیروں چیتوں شکار کر نے والے جانوروں کو کس نے بنایا۔بلی کس طرح چوہوں کو پکڑ کر ہلاک کرتی ہے۔پس ایسے بے رحم جانور کس کے بنائے ہوئے ہیں غور کر و پانیوں میں بھی شکار کرنے والے جانور موجود ہیں۔بلکہ بہت غور کرو تو حضرت ملک الموت کو دیکھو کیسے کیسے انبیاء و رسل بادشاہ بچے ، غریب، امیر ،سوداگر سب کو مارکر ہلاک کرتے ہیں اور دنیا سے نکال دیتے ہیں۔پھر غور کرو اگر ہم جانوروں کو عیدالاضحی پر ذبح نہ کریں اور ہمارا ذبح کرنا رحم کے خلاف ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ زندہ رکھے گا اور اُن پر یہ رحم ہو گا کہ وہ نہ مریں۔پس اس تمہید کے بعد گزارش ہے کہ اگر جانور وں کو ذبح کرنا رحم نہیں ہے تو شکاری اور گوشت خور اللہ کریم پیدا نہ کرتا۔نیز اگر ذبح نہ کیا جاوے تو خود بیمار ہو کر مریں گے۔پس غور کرو ان کے مرنے میں کیسی تکالیف ان کو لاحق ہوں گی۔پھر اگر ایسا ہی رحم ہے تو اپنے مطلب کو جانوروں سے ہل چلوانا ،ان کو لادنا، ان کے بچے باندھ کر ان کا دودھ لینا کیسی بے رحمی ہو گی۔ہمیںتعجب آتا ہے کہ وہ لوگ ایسے صوفی کون ہیں جو لوگ قربانی کے مخالف ہیں خود سرور عالم فخر نبی آدم ﷺ نے ہمیشہ قربانی کی اور حجۃ الوداع میں سو اونٹ قربان فرمایا۔