ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 284
اللہ علیم و قدیر ہے اپنے دعوے کے مطابق نکال دیں تو ہم ماننے کے واسطے تیار ہیں مگر ایسا ہر گز نہیں اسی وجہ سے آپ نے قرآن مجید کا نام تک نہیں لیا۔یاد رکھو علماء اور مجتہدین نئے شارع نہیں ہوتے۔نمبر ۵ میں آپ نے لکھا ہے کہ علمِ لدُنّی حاصل ہونا چاہئے میں نے قرآن مجید کو بھی پڑھا ہے اور اس لفظ پر بھی بہت دفعہ غور کیا ہے نہ یہ قرآن مجید میں ہے اور نہ اس کے کوئی صحیح معنے ہیں کیونکہ علمِ لدُنّی کی ’’یا ‘‘ا گر متکلم کی ہے تو اس کے معنے ہوئے میرے پاس کا علم تو کیا آپ کے پاس کا علم سب رسولوں اور نائبوں کے لئے ضروری ہے وہی بس ہے اور اگر یاء ِ نسبت ہے تو معنے ہوئے لدن والا علم اور لدن کے معنے ہیں کسی کے پاس والا علم تو کیا کسی پاس والا علم ہر ایک انسان کے پاس نہیں ہوا کرتا ہاں قرآن مجید میں ایک بندہ کی نسبت آیا ہے جس کو حضرت موسیٰ ملے تھے (الکھف:۶۶)۔پس اگر حضرت موسیٰ کو وہ علم حاصل تھا تو ملاقات بے فائدہ اور ان کے سوال جو قرآن مجید میں مذکور ہیں اس کی تکذیب کرتے ہیں اور اگر نہ تھا تو پھر بقول آپ کے حضرت موسیٰ رسول کیا نائب رسول بھی نہ ہوئے۔نمبر۶ آپ نے لکھا ہے کہ علم قرآن وسنت اور حل مسائل و قضا یا میں بدرجہء اتم کمال رکھتا ہو کبھی کسی سوال کے جواب میں قاصر نہ ہو۔اس نمبر میں گاہ باشد کہ کود کے نادان بغلط بر ہدف زند تیرے۔صادق آنے لگا تھا لیکن اس قدر کو بھی آپ نے ہاتھ سے ضائع کر دیا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ بے شک علم قرآن و سنت امام کو سب سے زیادہ ہونا چاہئے لاکن رہا یہ کہ کسی سوال کے جواب میں قاصر نہ ہو یہ نہ رسول کا کام ہے اور نہ اس کے (بقول آپ کے) نائب کا۔ہاں البتہ اس زمانہ کے ملاؤں کی تعریف میں کسی خوش مذاق نے فرمایا ہے کہ ملا آن باشد کہ بند نہ شود۔ورنہ اور سب کو بعض وقت اَللّٰہُ اَعْلَمکہنا پڑتا ہے۔ہاں اگر وہ امر ایسا ہو کہ ان کی راہ میں آ گیا ہے تو پھر ضرور اس کا انکشاف ہو جاتا ہے۔