ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 285 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 285

نمبر۷ میں آپ نے لکھا ہے کہ نائب رسول خداوند کریم اور رسول خدا کے نزدیک جمیع امت سے برگزیدہ اور افضل اور محبوب ہو اور سب سے زیادہ خدا اور رسول کو وہ دوست رکھتا ہو اور بنظر ضمیمہ سلطنت وہ اشجع الناس ، اعدل الناس ہو اور قربت قریبہ بھی نبی سے اوروں کی نسبت زیادہ رکھتا ہو۔یہاں پر بھی آپ نے حق و باطل میں خلط کیا ہے بے شک وہ مجتبیٰ اور افضل اور محبوب ترین اور محبّ ترین اور اشجع النّاس اور اعدل النّاس ہو نا چاہئے لاکن قربت قریبہ کا ذکر کیا آپ قرآن میں بتا سکتے ہیں۔دیکھو یہ شیعہ نامراد کے خیالی پلاؤ ہیں وہ ایسی نادان قوم ہے جس نے ایسے اصول قائم کئے ہیں جن سے انبیاء رسل اور کتاب اللہ اور دین اسلام پر حرف آتا ہے مثلاً ان کا یہ اصل ہے کہ سب انبیاء اور ائمہ کے لئے مارا جانا ضروری ہے حالانکہ اللہ علیم فرماتا ہے۔ (المائدۃ : ۶۸) اور فرماتا ہے  (المجادلۃ : ۲۲) پھر دیکھو مسیح کو مقتول کہنے والوں کی کیا خبر لی ہے۔کیا شیعہ نے اپنی عقل کو بھی جواب دے دیا ہے جیسا کہ قرآن مجید کو بیاض عثمانی کہہ کر بالائے طاق رکھ دیا تھا۔کیا وہ غور نہیں کرتے جو بادشاہ مارا جائے اور اس کے جانشین اور لوگ ہو جائیں تو کیا اس جیسا مردود مخذول کوئی اور ہے مثلاً بقول ان نادان دشمنانِ اسلام کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم تو زہر سے شہید ہو گئے جو کہ یہودی عورت نے دی تھی اور (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِک) ابو بکر ،عمر ،عثمان رؤساء منافقین آپ کی خلافت پر بیٹھ گئے اور قربت قریبہ والے حضرات آہیں مارتے حسرتیں بھرتے رہ گئے اور پھر یہ سلسلہ دین ممتد ہوا کہ چودھویں صدی جاتی ہے۔پراب تک قربت قریبہ والے مخذول چلے آتے ہیں اور سُرَّ مَنْ رَأ یٰ کے ایک مفقود الخبر شیرخوار کی امید پر عجل فرجا جپ رہے ہیں۔کیا اگر یہی حقیقت ہے تو پھر نعوذ باللہ آنحضرت سے جو کہ سیدالانبیاء اور خاتم الانبیاء ہیں کون مردود اور مخذول زیادہ ٹھہرے گا کہ جن کے آگے اور