ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 278
آزاد نار کا خط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ جناب مرزا صاحب خدا آپ کو نیک ہدایت نصیب کرے۔جناب رسول خدا صلعم کی وفات کے بعد ہر طالب حق کے لئے وہ پیچیدہ اور گمراہ کرنے والی راہیں بنائی گئی ہیں کہ طالبِ حق کو بڑی دشواری ہوتی ہے کہ وہ نائب حق کو کس ذریعہ سے تشخیص کرے۔علماء فریقین تو اپنے اپنے اقوال کی تائید کرتے ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک ایسی مقیاس ہونی چاہیے کہ نائب رسول ایسی صفات سے متصف ہو کہ دوسرے میں بجز منجانب اللہ ہونے کے ممکن نہ ہوں۔جب ایسے صفات علامات کی مقیاس ہمارے ہاتھ آجاوے اس وقت کتابوں سے ہر مدعی نیابت کے حالات کی انصافانہ تصدیق و تطبیق کی جاوے اور تشخیص کر لیا جاوے کہ جملہ صفات نیابت کس شخص میں ہیں اور کچھ خیال نہ کیا جاوے کہ امت نے اس طرف رجوع کیا ہے یا نہیں کیونکہ صفات نائب رسول بالکل ہم پلّہ رسولؐ ہوں گے اور یہ ممکن نہ ہوگا کہ صفات مذکورہ عوام الناس میں پائے جائیں بلکہ جس شخص کو قصداًصفات مذکورہ منجانب اللہ عطا ہوئے ہوں گے اس میں پائے جاویں گے۔نہ تو ایسے صفات اتفاقیہ کسی شخص میں پیدا ہو سکتے ہیں اور نہ خود کوئی از روئے تصنع ایسے صفات سے متّصف ہو سکتا ہے۔پس یہ طریقۂ تشخیص ایسا بے نظیر اور لاثانی ہے کہ ہر طالب حق منزل مقصود پر پہنچ جائے گا اور پہنچ گیا ہے۔وھو ھٰذا صفتِ اوّل نائب رسول اللہ کی یہ ہے کہ جس طرح مرسلین کی رسالت اور انبیاء کی نبوت کی تصدیق کے لئے صدور معجزات و خوارق عادات دلیل کافی اور شہادت میں سمجھے جاتے ہیں ویسے ہی نیابت رسول اللہ اور امامت کی تصدیق کے لئے اعجاز و خوارقِ عادات کا ظاہر ہونا ضروری ہے کیونکہ انبیاء تابعین رسالت سلف سے بھی اصدار معجزات ہوا ہے۔پس جس شخص میں