ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 277 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 277

خلافتِ راشدہ (ایک شیعہ کی حضرت حکیم الامت سے خط وکتابت) ذیل میں مَیں ایک خط وکتابت شائع کرتا ہوں جو ایک فرقہ آزاد نار اور حضرت حکیم الامت کے مابین ہوئی ہے۔مجھے راقم کا نام ایک از فرقہ آزاد نار پڑھ کر قرآن شریف کی یہ آیت بے اختیار زبان پر جاری ہوگئی۔(البقرۃ :۸۱) قرآن شریف نے جن لوگوں کا ذکر اس آیت میں کیا ہے اور جو جواب ان کو دیا گیا وہ آزادنار فرقہ کا ممبر امید ہے غور سے پڑھے گا۔شاید عام ناظرین اس معمّاکو پورے طور پر سمجھ نہ سکیں۔اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ ایک شیعہ کا خط ہے جو اس نے در اصل حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود مہدی مسعود کے نام لکھا ہے حضرت حکیم الامت نے سر سری طور پر اپنے کسی دوست کو اس خط کا جواب زبانی بتا دیا جس نے اپنے الفاظ میں اس جواب کو قلمبند کر دیا اس خط میں شیعہ صاحب نے علامات خلافت وغیرہ پر خود ہی خامہ فرسائی کی تھی اور اصل غرض اس کی یہ تھی … کہ اپنے خیال کے موافق خلافت راشدہ حقہّ پر اعتراض کرے مگر حکیم الامت نے وہ باطل ُکش حربہ اختیار کیا ہے جو تیرہ سو برس کی شکستہ اور دریدہ نیابت کو قیامت تک پھر سر اٹھانے نہ دے گا اور یقینا سُرَّ مَنْ رَّاٰی کا خوف زدہ مہدی آئندہ کبھی باہر نکلنے کا نام تک نہ لے گا۔ممکن ہے اس آزاد نار کو اللہ تعالیٰ سمجھ اور ہدایت عطا کرے مگر بظاہر نظر جیسا کہ اس فرقہ کا عام معمول ہے بہت کم امید ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں لیکن یہ خط وکتابت بہت سی سعید اور رشید روحوں کے لئے انشاء اللہ مفید اور بابرکت ہوگی اسی لئے میں نے اس کو اخبار میں چھاپ دینا پسند کیا میں ان لوگوں کو جو اپنے دل میں تلاش حق کی گدگدی رکھتے ہیں خاص طور پر توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اسی خط کو کئی مرتبہ پڑھیں اس لئے کہ اس میں ان کے لئے نور اور حق اور ہدایت ہے چونکہ یہ مضمون خلافت راشدہ حقہ کے متعلق ہے میں نے پسندکیا کہ اس کا عنوان خلافت راشدہ ہی رکھوں۔(ایڈیٹر الحکم)