ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 26
چونکہ بہشت طیب اور ہر طرح سے آرام کی جگہ ہے اس لئے ایسے بدکار جن میں بے آرامی کے زہریلے مادہ ہیں بہشت کے قابل نہیں۔اُن میں سے جو جہنم جاویں گے بعض ایسے ہوں گے جن کو جہنم کی آگ پاک و صاف کر دے گی اور اُن مواد کو جلا دے گی جو بے آرامی کے باعث ہیں اور وہ بہشت میں چلے جائیں گے۔اس کی مثال بعینہٖ ایسی ہے کہ ایک شخص نے ایسی زہریں کھا لیں یا ایسے برے کام کئے جن کے باعث وہ کوہڑا ہو گیا یعنی جذام میں مبتلا ہو گیا اب اس کوہڑے کو اس وقت تک تندرست اور صحیح لوگوں سے الگ کیا جاوے گا جب جب تک وہ اُس میں جذام کا مادہ موجود ہے۔جب وہ مادہ کسی تدبیر جلابوں سے مصفیات سے دور ہو گیا تو تندرستوں میں شامل کیا جاوے گا اور اگر بالکل سڑ گیا اورنکمّا ہو گیا تو ہمیشہ کے لئے اچھے تندرستوں سے علیحدہ رہے گا۔آپ اسی مثال پر غور کر کے پھر مجھے اطلاع دیں دوزخ اصلاح کا سامان ہے جیسے جذام خانہ مثلاً۔والسلام نور الدین ۲۰؍مئی ۱۸۹۸ء (الحکم جلد ۲ نمبر ۱۴، ۱۵مورخہ ۶۔۱۳؍جون ۱۸۹۸ء صفحہ ۳ ) مکتوب السلام علیکم آپ کا خط ایک بڑی کتاب کو لکھانا چاہتا ہے۔انشاء اللہ کسی موقع پر تیار ہو جائے گی آپ صبر سے انتظار کریں۔قرآن کریم قصوں کے بیان کرنے کو نہیں۔ا صل مطلب اور ضرورت پر کوئی بیان آ جاتا ہے۔یہود ، عیسائی اور مجوسی قومیں جب مسلمان ہوئیں تو یہ لمبے قصے ان سے اور ان کی کتابوں سے تفاسیر میں درج ہوئے ہیں۔ان کی اصل نہیں اور نہ ان پر کوئی شرع کا مسئلہ موقوف ہے ہمارے خیال میں اکثر مضر ہیں اور لغو ہیں۔ہرگز ہرگز شیطان کا تسلط کسی نبی پر نہیں۔نبی تو عظیم الشان لوگ ہیں۔کسی پر بھی شیطان کا