ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 25

اس واسطے خدمت والا میں التماس ہے کہ ازراہ ذرہ نوازی مندرجہ ذیل پتے پر مندرجہ بالا سوال کا جواب لکھ کر مشکور و ممنون فرمائیے۔پتہ یہ ہے میر حسین علی دفتر کمشنر صاحب بہادر کوئٹہ بلوچستان جواب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اللہ تعالیٰ ربّ رحمن رحیم مالک اور احکم الحاکمین ہے۔اُس کے سارے کام حکمت ورحمت کے بھر ے ہوئے ہیں۔بعض نادان چاہتے ہیں کہ ان تمام حکمتوں کو جو غیر محدود ہیں اپنی محدود عقل میں پھنسا دیں۔یہ دنیا تمام آئندہ آنے والے امور کے لئے نمونہ موجود ہے۔یہاں ایک بہشت اور ایک دوزخ موجود ہے اس پر غور کرو موجود چیز سے انکار ہو سکتا ہے؟ ایک شخص نے زنا کیا اور ایسی آتشک میں گرفتار ہوا جو اُس کے ساتھ مرتے دم تک موجود ہے یا ایک نادانی سے اپنی آنکھ پھوڑ لی یا اپنے ہاتھ سکھا دئیے۔تو اب دیکھو تمام عمر اس دوزخ سے نجات نہیں پاتا۔اس طرح الٰہی نعمتوں سے بعض ایسے آسودہ ہیں کہ مرتے دم تک یونہی خورم و خورسند ہیں یہ واقعات ہیں ان کا انکار محال ہے۔پس معلوم ہوا کہ آئندہ کی ہدایت کا ہونا ہی ضروری نہیں کیونکہ جب اس سزایاب کا خاتمہ ہی سزا میں ہو گیا تو اب ہدایت یاب ہوناکیا معنے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہے کہ ’’سزا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آئندہ ہدایت یاب ہو ‘‘چنانچہ ہر بدی اپنی ذات میں خاصیت رکھتی ہے کہ بدی کرنے والے کو دکھ دے اور نیکی میں خاصہ ہوتا ہے کہ وہ سکھ دے۔عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں سے نیکیاں بھی ہر روز ہوتی ہیں اور بدیاں بھی اس لئے لوگ سکھوں اور دکھوں میں مبتلا ہیں۔جن لوگوں کے لئے جہنم بنا ہے اُن کے اعمال کے خواص ایسے ہیں کہ جہنم جاویں۔یہ نظارہ قدرت پتھر اور درختوں میں دیکھو اُن کا بعض حصہ جلانے اور کاٹ دینے کے قابل ہے بعض حصہ حفاظت کے لائق ہے۔