ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 247
تک سجدے میں پڑے رہے اور جب سر اٹھایا چہرہ زرد ہو گیا تھا۔جس سے معلوم ہوا کہ ہیبت اور جبروت الٰہی اس پر غالب تھی اس کی بے نیازی پر ایمان تھا اور اس کے فضل پر سجدہ شکر۔پھر جب مولوی عبد الکریم صاحب اس مقام پر پہنچے کہ ہاں یہ سچ ہے کہ نہ میں جسمانی طور پر آسمان سے اترا ہوں اور نہ میں دنیا میں جنگ اور خون ریزی کرنے کے لئے آیا ہوں بلکہ صلح کے لئے آیا ہوں مگر میں خدا کی طرف سے ہوں تو جلی الفاظ پر آپ نے پھرایک لمبا سجدہ کیا۔جو معلوم ہوتا تھا کہ اس توفیق کا شکریہ تھی جو خدا تعالیٰ نے حضرت امام علیہ السلام کی شناخت عطا کی اور اسے ہمارے زمانہ میں بھیجا۔وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِکَ۔اشتہار پڑھ کر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بھی ایک لمبے سجدہ میں گر پڑے۔جس سے میں نے اندازہ کیا کہ کیسے پاک قلوب ہیں جو متأثرات میں یک رنگی رکھتے ہیں۔اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُمْ۔آمین جوالامکھی کی تباہی پر تأثرات جوالا مکھی کے تباہ ہونے کا ایک خط آیا۔اس پر مجھ سے فرمایا کہ مجھے آج بہت بڑی خوشی ہوئی ہے اور میں دیر تک خدا کی حمد کرتا رہا اور سجدات شکر بجا لایا۔میرا دل عجیب خوشی سے بھرا ہوا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائم ہونے کے واسطے یہ مبارک فال ہے یہ بت ایسا بت تھا جس کے لئے دلائل بیان کئے جاتے تھے مجھے کامل یقین ہو گیا ہے عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا وَ مَقَامُھَا(تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ ۴۳۲)میں اَلدِّیَارُ سے مراد یہی کانگڑہ کی ویلی ہے۔یہ بڑا بھاری شرک کا مندر تھا۔خدا تعالیٰ نے اسے تباہ کر دیا ہے تم اس پر ایک لیڈنگ آرٹیکل لکھو۔میں نے عرض کی کہ جناب ہی لکھیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو خاص ذوق عطا فرمایا ہے۔فرمایا۔نہیں تم لکھو۔اس پر پھر میں نے عرض کی کہ میں چاہتاہوں کہ خواہ جناب چند سطرہی لکھ دیں ان میں برکت ہوگی اس پر میں اضافہ کر لوں گا۔چنانچہ آج دوسری جگہ جو لیڈر کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔کے عنوان سے میں نے لکھا ہے وہ حضرت حکیم الامت کی اسی پاک تحریک کا نتیجہ ہے آپ نے چند سطور مجھے لکھ دیں اور