ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 246 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 246

نے تحفہ گولڑویہ میں یہ عبارت لکھی ہے۔’’اِس کلام الٰہی سے ظاہر ہے کہ تکفیر کرنے والے اور تکذیب کی راہ اختیار کرنے والے ہلاک شدہ قوم ہے اس لئے وہ اس لائق نہیں ہیں کہ میری جماعت میں سے کوئی شخص ان کے پیچھے نماز پڑھے کیا زندہ مردہ کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے؟ پس یادرکھو کہ جیسا خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی مکفّر اور مکذّب یا متردّد کے پیچھے نماز پڑھو بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہواسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا پس تم ایسا ہی کرو۔کیا تم چاہتے ہو کہ خدا کا الزام تمہارے سر پر ہو اور تمہارے عمل حبط ہو جائیںاور تمہیں کچھ خبر نہ ہو۔جو شخص مجھے دل سے قبول کرتا ہے وہ دل سے اطاعت بھی کرتا ہے اور ہر ایک حال میں مجھے حَکَم ٹھہراتا ہے اور ہر ایک تنازع کا مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے مگر جو شخص مجھے دل سے قبول نہیں کرتا اس میں تم نخوت اور خود پسندی اور خود اختیاری پائو گے۔پس جانو کہ وہ مجھ میں سے نہیں کیونکہ وہ میری باتوں کو جو مجھے خدا سے ملی ہیں عزت سے نہیں دیکھتا اس لئے آسمان پر اس کی عزت نہیں۔‘‘ (تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۶۴ حاشیہ) (الحکم جلد ۹ نمبر۱۳ مورخہ ۱۷؍ اپریل۱۹۰۵ء صفحہ ۱) اشتہار’’الدعوت‘‘سننے پر تأثرات و سجدات ۵؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو جو اشتہار الدعوت نام شائع ہوا اس کا مسودہ مولانا مولوی عبد الکریم صاحب پڑھ رہے تھے۔جب اس مقام پر پہنچے کہ تم نے ان تمام علامتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو حضرت حکیم الامت بے اختیار ہو کر سجدے میں گر پڑے۔خاکسار ایڈیٹر ان کے بالکل قریب تھا اور وہ ان باتوں کو باریک نظر سے دیکھنے کا عادی ہے اس نے دیکھا کہ حکیم الامت دیر