ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 223
جوابات ۱۔عید کی نماز میں جو تکبیریں آئی ہیں ان میں علماء کا اختلاف ہے جیسا آپ نے ذکر کیا مگر میں اس روایت کو ترجیح دیتاہوں جس میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں آئی ہیں۔حنفیہ کا مذہب کہ پہلی رکعت میں قبل قرأت اور دوسری میں بعد قرأت کہتے۔یہ بھی تابعین سے ثابت ہے۔مگر ہم پہلی روایت کو ترجیح دیتے اور اس پر میرا عمل درآمد ہے۔کیوں کا جواب یہ ہے کہ فقہاء محدثین اور مدینہ طیبہ کا عملدرآمد یہ ہے جس کو ہم ترجیح دیتے ہیں۔۲۔قربانی کی نسبت وجوب اور نصاب اور پھر نصاب میں تفرقہ نامی اور غیر نامی کا کوئی نہیں اس واسطے میں آپ قربانی کو ایک امر مسنون یقین کرتا ہوں اور تمام گھرانے کی طرف سے ایک ہی قربانی دو مینڈو ںکی قربانی مسنون ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی کیا کرتے تھے ہاں آپ نے حجۃ الوداع میں بیبیوں کی طرف سے بھی علیحدہ قربانی فرمائی ہے مگر جب کہ امر مسنون ہے تو اس پر زیادہ بحث کی ضرورت نہیں۔نصاب آج کل کے سکہ کے مطابقروپیہ ہوتے مگر قربانی کو اس میں دخل نہیں کیونکہ نبی کریم قربانی کرتے اور صاحب زکوٰۃنہ تھے اور حضرت ابراہیم بے ریب بہت عظیم الشان دولتمند تھے جن کے وقت اس قربانی کا زیادہ رواج ہوا۔۳۔قربانی بچوں کی طرف سے بھی ہو سکتی ہے ابو داود اور موطا میں بہت سی حدیثیں ہیں جن میں بیان ہے کہ تمام گھر کی طرف سے قربانی ہو سکتی ہے۔۴۔قربانی کرنے والا شروع چاند سے حجامت نہ کرائے اور ناخن نہ کٹائے اس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے پر یہ کہ آیا وہ حجامت نہ کرنا فرض یا واجب یا سنت ہے۔یہ سلف سے بہت بعید ہے کہ اس کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔۵۔میں آپ بکری اور دنبہ کی نسبت یہ تحقیق رکھتا ہوں کہ بکری دو برس سے کم کی نہ ہو اور دنبہ ایک برس سے کم نہ ہو۔یہ آپ تعجب کریں گے کہ ہمار ے ملک میں بھیڑ کا نام عرب میں نہیں اور نہ شریعت میں اس کانام ملا ہے۔عربی میں ضان اس کو کہتے ہیں جو چکی والا ہو۔پس عرب میں میں