ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 224 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 224

نے تحقیقات کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس بھیڑ کو ہم نہیں جانتے اور زیادہ سے زیادہ اس کوایک قسم کی غنم کہتے ہیں۔میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے مولوی ضان کا ترجمہ دنبی کرتے ہیں یا بھیڑ۔پس ہمارے ملک کی بھیڑ بکری میں داخل کر کے دو برس میعاد مقرر کرتا ہوں اور دنبی کو ایک برس میں اور یہی شریعت سے ثابت ہے۔۶۔قربانی کی کھال فروخت کرنے کی ممانعت ہم نے حدیث میں نہیں دیکھی آپ نے لکھی ہے اگر آپ کوئی حدیث بتلاویں تو پھر ہم توجہ کریں گے کیونکہ قربانی کی کھال گھر میں بھی رکھنا جائز ہے کیونکہ قربانی تو ذبح کا نام ہے خود تمام بکرا بھیڑ اپنے گھر میں رکھ لیوے۔اراقت الدم کا نام قربانی ہے اس کے بعد جو کچھ رہتاہے خواہ دے دے خواہ سارارکھ لے۔۷۔قربانی ہمارے نزدیک ۱۲ تک جائز ہے۔ہاں فقہاء نے ۱۳ تاریخ بھی رکھی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تامّلمیں ضرور اس امر میں کچھ فرق ہوا ہے۔۸۔نماز خسوف باجماعت جہری قرأت سے پڑھنا مسنون ہے اور اس کے بعد خطبہ بھی ہے۔یہ تو عام کتب احادیث میں مندرج ہے۔چھوٹی سے چھوٹی بلوغ المرام ہے اس میں کافی بحث ہے۔دارالامان میں خسوف اور کسوف دونوں جماعت سے پڑھی جاتی اور یہاں بھی رواج ہے۔ہاں یہ جماعت مسنون ہے فرض نہیں۔نور الدین (الحکم جلد۹ نمبر۵ مورخہ ۱۰؍ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۱) استفسار اور ان کے جواب ۱۔مرزا صاحب حج بیت اللہ شریف کیوں نہیں کرتے؟اور جناب پیران پیر کا درجہ اور ادب کہاں تک ہے۔۲۔فرضوں میں اور باقی نمازوں میں عین بیچ یعنی درمیان میں دعا مانگنا کس حدیث یا آیت کی رو سے ہے۔