ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 222
استفسار اور ان کے جواب ۱۔عید کی نماز کی ہر دو رکعت میں تکبیریں سات اور پانچ قبل از قرأت کہنی چاہییں یا چار پہلی رکعت میں قبل از رکعت اور دوسری رکعت میں چار قبل از رکوع خود آپ کا عمل کس پر ہے اور کیوں؟ یعنی دوسرے طریقہ کے چھوڑنے کی کیا وجہ ہے؟ ۲۔قربانی کس پر واجب۱ ہے؟کیا صاحب نصاب۲ پر؟ نصاب کتنا آج کل کے سکہ کے موافق۳،نصاب نامی۴ یا غیر نامی۵ ؟ بیل زمین وغیرہ ۶ بھی نصاب میںآسکتی ہیں یا صرف زرو سیم؟ ۳۔قربانی اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے بھی (جیسا کہ صدقہ فطر )علیحدہ دینی چاہیے یا ایک ہی قربانی کافی ہے؟ ۴۔قربانی کرنے والا شروع چاند سے حجامت نہ کرائے۔یہ مستحبات سے ہے یا سنت واجب؟ ۵۔بکری بھیڑ اہل حدیث کے نزدیک دوبرس کی جائز ہے فقہاء کے نزدیک ایک برس کی؟ آپ کا فیصلہ؟ ۶۔قربانی کی کھال فروخت کرنے کی حدیث میں ممانعت ہے بلکہ یہ کہ گویا اس نے قربانی نہیں کی ہم چاہتے ہیں کہ کھال فروخت کرکے قیمت دارالامان بھیج دیں۔فرمائیے؟اگر اجازت ہے تو دلیل؟ ۷۔قربانی عید کے بعد کتنے دن تک جائز ہے اہل حدیث کے نزدیک ۱۳تاریخ تک اور فقہاء کے نزدیک ۱۲تاریخ تک کس پر عمل کرنا چاہیے۔۸۔نماز خسوف با جماعت قرأت جہر سے ہو یا علیحدہ علیحدہ پڑھیں اور بعد ازاں خطبہ بھی جائز ہے یا نہیں۔میں خیال کر تاہوں دارالامان میں نماز کسوف بھی باجماعت قرأت جہر سے کبھی ادا نہیں کی گئی حالانکہ سنت رسول صلعم سے ثابت ہے؟