ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 19 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 19

علم اشتقاق والے جیسے امام راغب۔ان سب لوگوں کی تفاسیر کو دیکھومقدمہ میں اصول کو ہر گز قائم نہیں کرتے۔اور یہ بڑا گڑ بڑ کر دیا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فو زالکبیر میں اور سیداحمدخاں تحریر فی اصول التفسیر میں بہت کوشش کی ہے مگر وہ ایسی کوشش ہے کہ یورپ کے واسطے… کافی نہیں اور اس میں بہت کچھ اصلاح کی ضرورت ہے۔نواں امر مفسرین کے طبقات کو تو لوگ قائم کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اول درجہ تفسیر القرآن بالقرآن کا ہے اور دوم درجہ تفسیر میں حضرت حق سبحانہ کے اس نائب صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے جس کے حق میں فرمایا (النساء :۸۱) تیسرا مرتبہ خلفائے راشدین وغیرہ وغیرہ مگر عمل درآمد اس کو نہیں دکھاتے مثلاً  (البقرۃ :۳) کی تفسیر میں بیسیوں معنے متقی کے بیان کریں گے اور قرآن کریم نے مثلاً  (البقرۃ :۱۷۸) میں جو معنے متقی کے بیان کئے ہیں اس کا ذکر تک نہ کریں گے۔ (البقرۃ :۴) میں اقامت پر بحث ہو گی اور کوئی نہیں لکھے گا کہ وہ نماز جس کا ٹھیک رکھنا ضروری ہے اس کی تفسیر رسول کریم نے یہ فرما دی ہے۔آپ اس میرے عریضہ کو پہلے پورا دیکھ لیں اگر نا پسند آوے تو کالائے بد بہ ریش خاوند واپس بھیج دیں۔اس کی نقل میں نے نہیں لی اور نہ مجھے فرصت ہے کہ اس کی نقل کروں بلکہ دوبارہ دیکھنا بھی مشکل ہے۔اگر پسند ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے۔میں اور بھی لکھنا چاہتا ہوں مگر دوسرے وقت پر چھوڑتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق بخشی۔آمین۔آپ ایک کوچہ سے بے خبر ہیں اس پر عرض ہے۔حضرت پیر ومرشد مجدد الوقت مہدی آوان مسیح الزمان کا تذکرہ کرتے وقت آپ نے نعوذباللہ کا لفظ شریعت اسلام سے نا واقفی کے باعث استعمال فرمایا۔احادیث صحیحہ میں جناب خلیفہ اول ابوبکرؓ کو ابراہیم ؑاور مسیحؑ اور جناب خلیفہ ثانی کو نوح ؑاور ابوذر کو مسیح عیسیٰ بن مریم ؑ اور جناب سرور عالم فخر بنی آدم ﷺکو ابن ابی کبشہ اور قرآن میں