ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 189
ور نیچے دری تھی منکر ہستی باری تھا۔اثنائے گفتگو میں اس نے ایک ڈاکٹر کو اپنا معلم بتایا۔میں نے کہا کہ اسے طلب فرما دیں۔وہ بلایا گیا۔میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ یہ سیاہ تاگا دری میں ہے اس میں فطری خواہش ہے کہ وہ سیدھا اس مقام تک رہے اور پھر یہاں وہاں جاوے۔ڈاکٹر بولا۔مولوی صاحب ! ایک دری باف کے ارادہ نے اس کو سیدھا یا ٹیڑھا کیا مگر ہم نے اس دری باف کو دیکھا ہے اور تمہارے صانع کو ہم نے نہیں دیکھا۔میں نے کہا ڈاکٹر سوچ کر کہو۔سوچ کر کہو کیا تم نے اس دری کے دری باف کو دیکھا ہے کیا یہ سچ ہے۔تو کہا کہ اس کے مثل کو دیکھا ہے۔میں نے کہا کہ کیا اس کے اور مثل ہے۔مثل۔تو بولا اصل بات یہ ہے کہ میں بچہ تھا جب میں نے مولوی صاحب کو دیکھااس لئے میں اس وقت بحث میں دب گیا ہوں۔(الحکم جلد۸ نمبر۷ مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۶،۷) مسائل سر کے بال کتروانا (مستفسر قاضی فتح حسین صاحب کوئٹہ) حضرت اقدس کے موئے مبارک تو کانوں تک ہیں اور قریب ۱۰ سال میں میں نے آپ کے بال کبھی کترے ہوئے نہیں دیکھے۔حضرت مولوی نور الدین، حضرت مولوی عبدالکریم صاحبان اور نیز صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب کے بال کترے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔حکیم نورالدین صاحب فرماتے ہیں کہ سنن ابوداؤد میں ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بال کترواتے تھے اور کسی نے آپ پراعتراض نہیں کیا اورنہ قرآن وحدیث میں اس کی ممانعت ہے۔کتے کا کپڑوں سے لگنا یا سونگھنا اگرکتا کپڑوں سے لگ جاوے یا کپڑوں کو سونگھ لیوے تو کپڑا ناپاک ہوتا ہے یا نہیں؟ ( مستفسر بابو محمد حسین…) جواب: اگر کتا پانی میں تر نہ ہو اور اس کا جسم خشک ہو تو کپڑے کے ساتھ لگ جانے سے یا اسے سونگھ لینے سے کپڑا پلید نہیں ہوتا۔(البدر جلد ۳ نمبر ۳۱،۳۲مورخہ۲۴ ؍اپریل ،یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۷)