ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 190
متقی کون ہے گوجرانوالہ سے آئے ہوئے ایک مولوی صاحب حضرت مولوی نورالدین صاحب سے کلام کرتے رہے جس میں نووارد مولوی صاحب نے یہ کہا کہ ہمارے نزدیک بہت سے متقی ہیں کہ جنہوں نے مرزا صاحب کو نہیں مانا اور چونکہ ہم ان کو متقی اور راستباز تسلیم کرتے ہیں اس لیے ہم بھی نہیں مانتے۔حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحب نے اس کا جواب یہ دیا کہ ’’ اگر کوئی ایسا شخص ہے کہ جو ضداورتعصب وغیرہ سے تو پا ک ہے اور سچی ارادت سے حق کا طالب ہے اور اس لیے کسی شخص کو متقی مان کر اس کی تقلید سے وہ حضرت امام علیہ السلام کا منکر ہے تو میرے نزدیک وہ اس وقت تک معذور ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر حقیقت کوواضح نہ کر دے کیونکہ مؤاخذہ کے لیے ضروری ہے کہ (البقرۃ : ۲۵۷) ہو۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے(الانفال : ۴۳) جو ہلاک ہو وہ بھی بیّن آیات دیکھ کر ہلاک ہوا۔اور جو زندہ ہو وہ بھی بیّن آیات دیکھ کر زندہ ہو‘‘۔( البدر جلد ۳ نمبر ۲۲،۲۳مورخہ ۲۴؍مئی ویکم جون ۱۹۰۴ء صفحہ ۲) طاعون کا اصل مقصد اس زمانہ میں جبکہ طاعون نے اپنے خوفناک نظا روں سے اہل عالم کے دل کو ہلا دیا ہے اور اس کی سختی اور تندی ہر موسم میں بڑھتی جاتی ہے۔طبعاً یہ سوال ہر ایک کی فطرت میں پیدا ہو سکتا ہے کہ آخر طاعون سے اصل مقصد اللہ تعالیٰ کا کیا ہے؟ طاعون کو صرف ایک مرض وبائی قرار دینا اور منجملہ دیگر امراض وبائی کے ایک عام مرض سمجھ لینا تو غلطی ہے۔کیونکہ اس کے تواتر دوروں اور تیز رفتار سے اور ایک ترتیبی کارروائی نے اس کو تو ضرور پایہ ثبوت تک پہنچا دیا ہے کہ یہ ضرور قہر الٰہی ہے اور ایک بالارادہ قادر مطلق ہستی یعنی خدا تعالیٰ کے امر سے اپنی کارروائی کر رہی ہے۔اس مقام پر ہمیں طاعون زدہ علاقوں میں اس کی ترتیبی کارروائی کی نظیر پیش کرنے کی ضرورت مطلق نہیں ہے کیونکہ جن جن مقاموں میں یہ پڑ چکی ہے وہاں کے لوگوں نے خود مشاہدہ کر لیا ہوگا اور جہاں آج تک نہیں پڑی وہاں کے لوگ عنقریب دیکھ