ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 188 of 430

ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 188

میں جب بچہ تھا میری بڑی بھاوج مجھے رکھتی اور کھلاتی تھی رَحِمَہَا اللّٰہُ اور اَنْتَ الْھَادِیْ اَنْتَ الْحَقّ کہتی جاتی تھی۔جب مجھے ذرا ہوش آیا تو ماں کے حضور قرآن کریم سنتا تھا اور اَنْتَ الْھَادِیْ اَنْتَ الْحَقّ کی تصحیح کرتا تھا۔چند روز والد صاحب کے حضور بیٹھا تو وہی صدا آئی اور سنا اَنْتَ الْھَادِیْ اَنْتَ الْحَقّ صحیح ہے۔مدرسہ میں بیٹھا تو اس کی تصدیق پائی۔اب سکھ، ہندو، مسلمان، یہود اور عیسائیوں سے بھی اس کی تصدیق ہوئی اور یقین ہوا پھر مجھے جبال و اودیہ و برو بحار کے سفروں کا اتفاق ہوا مگر بھاوج مرحومہ کا قول ہر جگہ صحیح پایا۔سفر میں ایک بادشاہ کی مجلس میں بڑے طویل و عریض مقام پر سفید چاندنی بچھی تھی اور نرم نرم ہوا کے باعث اس میں خوشنما تموج ہوتا تھا مجھے وہ تموج بھلا معلوم ہوتا تھا اور اس کی طرف متوجہ ہوا اور اسی حال میں وہ بادشاہ اپنے وزیر سے جو دہریہ مزاج تھا ہستی باری پر شوقیہ بحث کررہا تھا۔بادشاہ نے مجھ سے فرمایا کہ ہستی باری کی کوئی دلیل بیان کرو۔میں نے عرض کیا کہ یہ دلربا تموج چاندنی کا، بادشاہ نے جب اس دلربا تموج کو دیکھا تو اسے نہایت ہی مرغوب آیا اور مجھے فرمایا کہ کیونکر؟ میں نے عرض کیا کہ اس تموج کا باعث چاندنی کا ارادہ ہے یا اس میں طبعی خواہش ہے۔تو وزیر نے کہا کہ یہ تموج ہوا کی خاص رفتار کے باعث ہے اور یہ متاثر چاندنی بے ارادہ ہے۔میں نے عرض کیا اس طرح کی رفتار اس وقت ہوا کی طبعی خاصیت سے ہے۔تو اس نے کہا کہ ایک خاص انقباض کے باعث ہوا میں یہ خاص رفتار ہے۔میں نے کہا کہ یہ انقباض بالارادہ ہے اور مجھے یقین تھا کہ یہ فلسفی ہے دو تین قدم سے زیادہ نہیں چلے گا۔تو اتنے میں معاً اس نے کہا کہ غیر معلوم سبب اس انقباض خاص کا ہے۔میں نے عرض کیا کہ وہ غیرمعلوم سبب ارادہ رکھتا ہے کہ نہیں۔اس پر بولا کہ ایک گریٹ پاور اس انتظام کا موجب ہے۔اس پر میں نے اور بادشاہ نے معاً کہا کہ یہ اصطلاحی لفظ ہے اس کواللہ ،پرمیشر ،گاڈجو چاہو کہو۔تب اس نے کہا کہ میں منکر نہیں بلکہ طالب دلیل ہوں۔اور ایک عظیم الشان شاہزادہ کے حضور ایسا اتفاق ہوا کہ ہم لوگ کرسیوں پر بیٹھے تھے