ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 173
جناب میں آپ خود کیوں نہیں گڑگڑاتے۔اے میرے محسن! میں نے گناہ پر گناہ کیااور تونے ہمیشہ عفو فرمایااورپردہ پوشی کی۔اے ارحم الراحمین !میرے فلاں فلاں غموم میں تو محض اپنے کرم سے دستگیری کر۔میں تیری بارگاہ میں تیرا ہی نام تیرا ہی کرم شفیع کرتا ہوں۔شادی کے معاملہ میں ()(بنی اسرائیل :۲۸) یاد رہے اورمیں ہرطرح حاضر ہوں جس وقت کہو۔(۱) موذی کاجلانا ممنوع ہے۔دلیل لَا یُعَذِّبُ بِالنَّارِ اِلَّا رَبُّ النَّارِ (تفسیر القرطبی، سورۃ البقرۃ :۱۹۵) حدیث میں وارد ہے۔(۲) بکرا کُل حلال ہے یعنی اس کا جزو حرام نہیں مگر دم مسفوح۔دلیل (البقرۃ : ۳۰) سے کل اشیاء کی حلت ثابت ہے۔پھر میتۃ اور مااھل لغیر اللّٰہ،دم،موقوذہ، متردیۃ،النطیحۃ،وما اکل السبع کی حرمت قرآن سے اور سباع وغیرہ محرمات کی تخصیص حدیث سے ثابت ہے۔باقی کل اشیاء اباحت اصلی پر ہیں۔(۳)سری بریان کرنے سے مکروہ نہیں ہوتی۔دلیل بالا دیکھیں،جواب لفافہ اوّل۔ضیاء اور قاموس میں ہے۔پس سوتی جراب اور چمڑے کے موزہ کو عام ہے چمڑے کی تخصیص نہیں۔صاحب مجمع البحار نے تخصیص کی اور دلیل نہیں دی۔۲۷؍ دسمبر ۱۸۸۵ء۔( البدر جلد ۳ نمبر ۵ مورخہ یکم فروری ۱۹۰۴ ء صفحہ ۸۔الحکم جلد ۸ نمبر۵ مورخہ ۱۰ ؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۰) حل مسائل کوئٹہ سے کچھ مسائل ایک احمدی دوست نے دریافت کئے ہیں مولانا حکیم نورالدین صاحب سے استفسار کر کے ان کا جواب درج کیا جاتا ہے۔اہل ہنود کی تیارکردہ اشیاء کا کھانا سوال۱۔کیا جماعت احمدیہ کو اہل ہنود کے ہاتھ کی مٹھا ئی وغیرہ اشیاء کھانی جائزہیں؟ جواب (۱) قادیان میں حضرت امام علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عمل درآمد یہ رہا ہے اور ہے کہ ہنود کے ہاتھ کی مٹھائی وغیرہ برابر آپ لے کر استعمال کرتے ہیں۔شربت اور چاء اور دیگر ضرورتوں کے لئے مصری ہندو حلوائیوں کے ہاں سے جاتی ہے اور دوسری اشیاء بھی۔