ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 174
(۲) اہل ہنود اہل کتاب میں شمارہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک آسمانی کتاب کے مدعی ہیںاور ان کا وجود قبل از بعثت رسالت مآب چلا آرہا ہے۔بعض ہنود آریہ سناتن دھرم جو وید کو کلام الٰہی مانتے ہیں وہ اہل کتاب معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح پارسی بھی اہل کتاب ہیںہاں سکھ نہیںہوسکتے۔جین بدھ بھی اکثرکتاب کے قائل ہیں۔ثواب موتیٰ سوال۲: کیا فوت شدہ شخص کو قرآن مجید پڑھ کر پہنچانا جائز ہے اور ثواب موتیٰ کو ہوتا ہے؟ کیا موتیٰ کے لئے کھانا پکا کر کھلانا جائز ہے؟ جواب: دونوں صورتوں میں ثواب میت کو پہنچتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو’’یا‘‘سے یادکرنا سوال۳: یا رسول اللہ کہنے پر وہابی اعتراض کرتے ہیںکیونکہ یا حاضر اشخاص کے لئے ہوتا ہے؟ جواب۔(۱) کیا جب اللہ تعالیٰ کو یا کہہ کر پکارا جاتا ہے تو وہ سامنے حاضر ہوتا ہے حِسّی طور پر تو اس کا ثبوت نہیں۔اب رہی صفات کی بات کہ وہ صفات سے حاضر ہوتا ہے تو اپنی صفات کے رو سے جو مطالعہ کے طور پر صاحب صفات ذہن میں سامنے آجاتا ہے۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سامنے آ جاتے ہیںاور ہر زمانہ میں موجود ہیں۔حضرت میرزا صاحب بھی ان کی موجودگی کا ثبوت ہیں پھر قرآن شریف میں ہے (یٰس: ۳۱) کیا حسرت سامنے موجود ہوتی ہے یا وہ علم وحواس رکھتی ہے یا وہ سب عباد ہوتے ہیں جو مخاطب ہوتے ہیں۔(۲)فرط محبت یا فرط غم نیزنظم میں غائب کو نداء کی جاتی ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ وہ بجسد عنصری موجود ہو بلکہ اظہار محبت کا یہ ایک طریق ہے۔