ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 164
ناعاقبت اندیش اتنا نہیں سمجھتے کہ علوم دینیہ سے بے خبرر کھ کر ان کو ابدی جہنم کے لائق بنا دیا اور ان کی نیکی کی قوتوں کو کچل ڈالا۔اولاد والدین کے اخلاق و اعمال کا آئینہ ہوتی ہے انسان کے نطفہ میں عادات، اخلاق ، کمالات کا اثر ہوتا ہے۔والدین کے ایک ایک برس کے خیالات کا اثر ان کی اولاد پر ہوتا ہے۔جتنی بد اخلاقیاں بچوں میں ہوتی ہیں وہ والدین کے اخلاق کا عکس اور اثر ہوتا ہے۔کبھی ہم نشینوں اور ملنے والوں کے خیالات کا اثر بھی والدین کے واسطہ سے پڑتا ہے۔پس خود نیک بنو اخلاق فاضلہ حاصل کرو تا تمہاری اولاد نیک ہو اَلْوَلَدُ سِرُّ لِّاَبِیْہِ (مشکٰوۃ المصابیح کتاب الإیمان باب الإیمان بالقدر الفصل الثالث) میں یہی تمہید ہے اولاد والدین کے اخلاق، اعمال، عقائد کا آئینہ ہوتی ہے۔(الحکم جلد ۷ نمبر ۳۸ مورخہ ۱۷؍ اکتوبر۱۹۰۳ ء صفحہ۳) مکتوب بنام حاجی الٰہ دین صاحب عرائض نویس صدرشاہ پور بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ماہ مارچ ۱۸۹۷ء میں ہمارے عزیز بھائی حاجی الٰہ دین صاحب عرائض نویس صدر شاہ پور نے عالم خواب میں دیکھا تھا۔خواب کہ ایک وسیع صاف ہموار میدان میں ایک بہت ہی بڑا درخت ہے جس کا تنا بڑا موٹا اور اس کی شاخیں جو وہ بھی شاخ در شاخ ہیں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں وہ درخت بلحاظ پھیلاوٹ وسعت عظمت کے درخت بوہڑ سے بھی کئی گنا بڑا ہے اس کا نظارہ فرحت انگیز اور اس کا سایہ راحت افزا ہے اس کے نیچے کھڑا ہوں اور اس درخت کی سب سے بڑی شاخ میرے سر کے بالوں سے چمٹی ہوئی ہے وہاں ایک بہت مرتفع عالی شان جگہ سے قرآن مجید سننے کی آواز آرہی ہے کلام مجید ایسی خوش الحانی سے