ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 165
سے سنایا جارہا ہے کہ اس کی سماع سے کمال روحانی ذوق و سرور پیدا ہوتاہے اور طبیعت اس کی لذت سے مست و سرشار ہوجاتی ہے اور اس حالت ربودگی میں از خود رفتہ ہوکر زمین پر گرنے لگتا ہوں مگر وہ شاخ کلاں جس کے ساتھ سر کے بال جکڑ ے ہوئے ہیں وہ نیچے گرنے نہیں دیتی کیونکہ جب نیچے گرنے لگتا ہوں تو وہ شاخ سر کے بالوں کو اوپر کشش دیتی ہے جس سے ہوش آجاتی ہے باربار یہی واقعہ پیش آتا ہے بالآخر خواب سے بیداری ہوگئی۔یہ واقعہ خواب بغرض دریافت تعبیر بخدمت جناب حضرت حکیم الامت صاحب دام برکاتہ بذریعہ عریضہ نیاز عرض ہوا تھا جواب میں جو تعبیر جناب ممدوح الشان نے بصورت فیض شمامہ تحریر فرمائی۔چونکہ وہ ایک خاص معرفت کا پہلو رکھتی ہے لہٰذا اس کی نقل بغرض اندراج اخبار گوہر بار ارسال خدمت ہے۔امید ہے کہ اس کا باخوض و باتدبر مطالعہ انشاء اللہ تعالیٰ بہت سے سعید فطرت ناظرین کی انشراح صدر و تنویر قلب کا باعث ہوگا اور ترقی عرفان و ازدیاد ایمان میں ان کو مدد دے گا۔والسلام یکم نومبر۱۹۰۳ء امام صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کہترین کفش بردار خادم۔احقر العباد الٰہ داد عفی عنہ احمدی کلرک۔صدر شاہ پور ضلع شاہ پور۔نقل فیض شمامہ جناب حضرت حکیم الامت صاحب موصوف جو انہوں نے خواب مندرجۃ الصدر کی تعبیر میں بھائی حاجی الٰہ دین صاحب عرائض نویس صدر شاہ پور کو لکھا۔بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دنیا میں مرزا جی ایک طوبیٰ کادرخت ہے۔اور الحمدللہ یہ خاکسارنورالدین اس کی ایک شاخ۔اورمیرا پیارا بھی الحمدللہ اس شاخ میں پھنسا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ابھی وہ زمین پرگرا نہیں اورخداکرے کہ نہ گرے۔مرزا جی کا کام کیا ہے؟صرف قرآن کریم سنانا۔اگران کے قرآن سے کسی کا دل صاف نہ ہوتو وہ پھر قرآن ہی سنائے گا کہ قرآن کا اثر پاجاوے۔میرے پیارے! تو یاد کر اپنے لڑکپن اوربچپن کو۔کیاتیراسچا اورمخلص دوست بدعقیدہ، بدچلن، نافہم یا کمزور ہے۔کیا تونے کوئی بدنمونہ اس میں پایاکہ تو اس سے جدا ہونا چاہتا ہے۔یاد رکھ میری دعائیں