ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 161
ان کا قصور تھا مگر اللہ نے تیرے سبب سے اہل مکہ کے گناہ بھی بخش دئیے کیونکہ وہ مسلمان ہو گئے۔بودی کے متعلق عرب دستور اور اسلامی تعلیم عرب میں دستور ہے کہ غلاموں کی بودی رکھا کرتے تھے اور جب ان کو آزاد کیا جاتا تھا تو اسے کاٹ دیتے تھے اور بودی کو اطاعت اور فرمانبرداری کا نشان سمجھا جاتا تھا مگر اسلام نے بودی کو قطعاً اڑا دیا کیونکہ وہ حریت کی قدر کرتا ہے اور حریت ہی کو پھیلانا چاہتا ہے۔موسٰی ؑ کے مدین میں قیام سے سبق موسیٰ علیہ السلام جب مدین میں آئے ان کے وہاں کے قیام اور سفر سے مندرجہ ذیل سبق ملتے ہیں:۔اوّل۔موسیٰ علیہ السلام نے دعا بھی کی اور دوسری طرف اپنے بچاؤ کی ضروری تدابیر بھی کیں یعنی اسباب کو بھی ضائع نہیں کیا اور توکل علی اللہ کے پہلو کو بھی نہیں چھوڑا۔دوئم۔حضرت موسیٰ نے ان لڑکیوں کی بکریوں کو پانی پلا کر خلق اللہ پر رحم اور شفقت کا نمونہ دکھایا اور محض اللہ تعالیٰ کے لئے نہ کسی مراد کے واسطے۔سوئم۔انسان کو چاہیے کہ اپنے آرام کی تجاویز سوچے اور طبیعت کو خراب نہ کرے موسیٰ علیہ السلام کی طرح جو سایہ میں بیٹھ کر دعا کرتے ہیں اسی طرح ہر مومن کا فرض ہے کہ اپنی بہتری کے لئے دعائیں کرے۔چہارم۔بجائے اس کے کہ انسان خود سوال کرے خود محنت مزدوری کر کے اپنے کام چلائے اور والدین کی آخری عمر میں ان کی خدمت کرے جیسا کہ ان دو لڑکیوں نے کی۔پنجم۔اگر کوئی تم سے نیکی کرے تو تم اس کا ضرور خیال رکھو۔اس کے احسان کا بدلہ دینے کی کوشش کرو۔اگرنہ دے سکو تو دعا کرو یہاں تک کہ تم کو یقین ہو جاوے کہ حق ادا ہوگیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الرحمن : ۶۱) ششم۔اگر بے مانگے کوئی چیز آجاوے تو اس کے لینے سے مضائقہ نہ کرے ہاں اگر ہو